by Rao Imran Suleman
Rao Nama

امریکہ کے ایران پر نئے حملے، تہران اور بندر عباس سمیت مختلف شہروں میں دھماکے

مشرقِ وسطیٰ میں وسیع تر جنگ کے خدشات میں اضافہ

0

11 juneتہران/واشنگٹن (ویب ڈیسک):

امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے نئے مرحلے کے آغاز کے بعد تہران، بندر عباس، میناب، سیریک اور دیگر علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، جبکہ ایرانی فضائی دفاعی نظام کو ہائی الرٹ کرتے ہوئے مختلف شہروں میں فعال کر دیا گیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق مغربی تہران، صوبہ فارس اور جنوبی ساحلی علاقوں میں فضائی دفاعی یونٹس متحرک ہو گئے ہیں اور متعدد مقامات پر فضائی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بندر عباس اور تہران میں دھماکوں کی آوازیں سننے کی تصدیق کی گئی ہے، تاہم فوری طور پر نقصانات اور اہداف کی نوعیت سے متعلق تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے ایران میں متعدد اہداف پر اضافی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی افواج ایرانی تنصیبات اور عسکری اہداف کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائیاں خطے میں امریکی مفادات کے تحفظ اور ایران کی مبینہ جارحانہ سرگرمیوں کے جواب میں کی جا رہی ہیں۔ اس سے قبل امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ ایران کی اہم تنصیبات کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کرے گا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ گزشتہ روز کی طرح آج بھی شدید حملے کیے جائیں گے اور اگر تہران نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

ادھر ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کےسربراہ ابراہیم عزیزی نے امریکی دھمکیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کسی بھی قسم کی جنگ سے خوفزدہ نہیں اور اگر نیا تصادم شروع ہوا تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ وسیع پیمانے پر محسوس کیے جائیں گے۔ ایرانی حکام نے امریکی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست فوجی تصادم کے خطرات بڑھ رہے ہیں، جبکہ خلیج میں جاری صورتحال کے باعث عالمی توانائی منڈیوں اور تیل کی قیمتوں پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاحال ایرانی حکام کی جانب سے جانی یا مالی نقصانات کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، جبکہ صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور مزید اطلاعات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.