by Rao Imran Suleman
Rao Nama

ایران کے زور دار جواب پر ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے، حملے منسوخ

امریکا نے عسکری کارروائی روک دی

0

واشنگٹن: 12 جون 2026 (ویب ڈیسک)

ایران کے زور دار جواب اور ممکنہ جوابی کارروائیوں کے خدشات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر آج رات ہونے والے مجوزہ حملے روکنے کا حکم دے دیا۔ چند گھنٹے قبل سخت فوجی کارروائی کی دھمکی دینے والے ٹرمپ کے اس اچانک فیصلے کو ناقدین ایک اور یوٹرن قرار دے رہے ہیں، جبکہ مبصرین کے مطابق ایران کے خلاف ہر نئی دھمکی امریکی صدر کے لیے سیاسی اور سفارتی سبکی کا باعث بنتی جا رہی ہے۔

صدر ٹرمپ نے بعد ازاں اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ ایک اہم معاہدہ تقریباً طے پا چکا ہے اور اسی پیش رفت کے باعث حملے منسوخ کیے گئے ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا، ایران اور دیگر متعلقہ فریقین کے درمیان معاہدے کے بنیادی نکات پر اتفاقِ رائے ہو چکا ہے اور حتمی دستاویزات آخری مراحل میں ہیں۔

امریکی صدر کے مطابق معاہدے کے بنیادی فریم ورک پر امریکا، اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، ترکیہ، پاکستان، بحرین، کویت، اردن، مصر اور دیگر ممالک کو اعتماد میں لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے پر دستخط کی جگہ اور تاریخ کا اعلان جلد کر دیا جائے گا۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی بدستور برقرار رہے گی اور معاہدے پر باضابطہ دستخط ہونے تک اسے ختم نہیں کیا جائے گا۔

دوسری جانب ایرانی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے دعوے کی تصدیق یا تردید نہیں کی، تاہم سفارتی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان عبوری سمجھوتے پر مذاکرات جاری ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ سمجھوتے میں جنگ بندی کو مضبوط بنانے، بعض منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی کئی مرتبہ ایران کے ساتھ معاہدے کے قریب ہونے کا دعویٰ کر چکے ہیں، تاہم مختلف معاملات پر اختلافات کے باعث مذاکرات حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے تھے۔ تازہ اعلان بھی ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند گھنٹے قبل ہی امریکی صدر ایران کے خلاف سخت حملوں کی دھمکی دے رہے تھے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.