یمن میں خطرناک چٹان پر چڑھتے ہوئے نوجوان ہلاک، سوشل میڈیا پر مشہور مہم جو کی موت
یمن کے جنوبی صوبے الضالع میں ایک نوجوان مہم جو چٹان پر چڑھنے کے دوران گہرے آتش فشانی گڑھے میں گر کر جان کی بازی ہار گیا۔ مقامی حکام کے مطابق 30 سالہ القعقاع ابن عنتر بغیر حفاظتی سامان کے ایک بلند اور تقریباً عمودی چٹانی دیوار پر چڑھ رہے تھے کہ اچانک ان کا توازن بگڑ گیا اور وہ نیچے جا گرے۔
رپورٹس کے مطابق حادثہ جمعے کے روز “حردہ ڈیم” نامی آتش فشانی گڑھے کے قریب پیش آیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ نوجوان تقریباً 120 میٹر گہرائی میں گر گئے، جسکے بعد فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں۔
ریسکیو ٹیموں، غوطہ خوروں اور دیگر ماہرین نے دشوار گزار مقام پر کئی گھنٹوں تک آپریشن جاری رکھا۔ بالآخر ان کی لاش گڑھے کے اندر موجود جھیل سے برآمد کر لی گئی۔
حادثے کی ایک مختصر ویڈیو بھی منظرِ عام پر آئی ہے جس میں نوجوان کو چٹان پر چڑھتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں چند لمحوں بعد ان کی گرفت کمزور پڑتی ہے اور وہ نیچے گر جاتے ہیں۔
حردہ ڈیم یمن کے شہر دمت کے قریب واقع ایک منفرد آتش فشانی مقام ہے، جو اپنی قدرتی ساخت، بلند چٹانی دیواروں اور گرم پانی کی جھیل کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہ جگہ مقامی سیاحوں اور مہم جو افراد کی توجہ کا مرکز سمجھی جاتی ہے۔
القعقاع ابن عنتر سوشل میڈیا پر اپنی جرات مندانہ اور خطرناک مہم جوئی کی ویڈیوز کے باعث معروف تھے۔ وہ اکثر پہاڑوں اور بلند چٹانوں پر بغیر حفاظتی آلات کے چڑھائی کرتے اور اپنی سرگرمیوں کی ویڈیوز آن لائن شیئر کرتے تھے۔
واقعے کے بعد سول ڈیفنس حکام نے عوام، خصوصاً مہم جوئی کے شوقین افراد، کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور حفاظتی سامان کے استعمال کی اہمیت پر زور دیا ہے تاکہ ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔
PNP
Comments are closed.