by Rao Imran Suleman
Rao Nama

پنجاب حکومت کا اعلیٰ تعلیمی اداروں کا نظام پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت چلانے کا فیصلہ

لاہور(پی این پی)پنجاب حکومت نے ہائیر ایجوکیشن کے تعلیمی اداروں کا نظام پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت چلانے کا فیصلہ کرلیا،

پنجاب بھر میں ہائیر ایجوکیشن سے متعلق تمام تعلیمی ادارے جو اس وقت پنجاب حکومت کے تحت کام کررہے ہیں کے معیار تعلیم کو مزید بہتر بنانے کے لیے انہیں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ شپ ایکٹ 2025 کے تحت چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اس ضمن میں اس نئے نظام کی تجارتی قانونی اور مالی تقاضوں کے مطابق نگرانی کے لیے وزیر خزانہ پنجاب کی سربراہی میں ایک تیرہ رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔کمیٹی کے ممبران میں وزیر قانون و پارلیمانی امور، وزیر ہائیر ایجوکیشن، چیئرمین پی این ڈی بورڈ، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن، سیکرٹری فنانس، سیکرٹری اسکول ایجوکیشن، سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور، سی آی او پنجاب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی، مینجنگ ڈائریکٹر پی پی آر اے، چئیرپرسن پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن، چیف آپریٹنگ آفیسر پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق ہائیر ایجوکیشن سے متعلق تعلیمی اداروں کو پی پی پی موڈ پر چلانے کے نئے نظام میں پنجاب حکومت اپنا مکمل انتظامی و مالی کنٹرول اپنے پاس رکھے گی اور اس نظام کے تحت ہائیر ایجوکیشن کے تعلیمی اداروں میں نظام تعلیم کا معیار مزید بہتر بنایا جائے گا اور معیار تعلیم کو عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق بنانے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے نظام کو لاگو کیا جارہا ہے۔

PNP

Comments are closed.