ایران سے متعلق ممکنہ معاشی پیکیج اور خلیجی خدشات — تازہ صورتحال
امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ سفارتی پیش رفت کے بعد خطے میں ایک بڑا سوال زیرِ بحث ہے کہ اگر کسی معاہدے تک پہنچا جاتا ہے تو ایران کی معیشت کی بحالی کے لیے متوقع 300 ارب ڈالر کا مالی بوجھ کون اٹھائے گا۔
اسی پس منظر میں امریکی وزیرِ خارجہ مشرقِ وسطیٰ کے دورے پر ہیں، جہاں وہ متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین سمیت اہم خلیجی ممالک کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ ان مذاکرات کا مقصد خطے کے اتحادیوں کو اعتماد میں لینا اور ممکنہ معاہدے کے اثرات کے بارے میں خدشات کم کرنا بتایا جا رہا ہے۔
خلیجی ممالک اصولی طور پر خطے میں کشیدگی میں کمی اور کسی بڑے تصادم سے بچاؤ کے حامی ہیں، تاہم ان کی اصل تشویش یہ ہے کہ اگر ایران کو بڑی معاشی معاونت یا منجمد اثاثوں کی بحالی کی صورت میں خطیر رقم تک رسائی ملتی ہے تو اس کا خطے کے طاقت کے توازن پر کیا اثر پڑے گا۔
ذرائع کے مطابق زیرِ غور تجاویز میں ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی اور ممکنہ مالی معاونت کے لیے ایک بین الاقوامی فریم ورک تشکیل دینے کی بات شامل ہے، جس میں یہ شرط بھی زیرِ غور ہے کہ یہ رقوم براہِ راست ایران کی حکومت کے مکمل کنٹرول میں جانے کے بجائے مخصوص شعبوں جیسے انسانی امداد یا بنیادی ضروریات پر خرچ ہوں۔
امریکی حکام کے مطابق اس مجوزہ نظام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ اگر ایران کے مالی وسائل بحال بھی ہوں تو ان کا استعمال شفاف ہو اور وہ کسی فوجی یا غیر اعلانیہ سرگرمی میں استعمال نہ ہوں۔ اس حوالے سے کچھ ممالک کی شمولیت سے نگرانی کے طریقہ کار پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ اس کے منجمد اثاثوں پر اس کا مکمل حق ہے اور کسی بھی بیرونی نگرانی یا پابندی کے بغیر ان رقوم کا استعمال اس کی خودمختاری کے تحت ہونا چاہیے۔
تخمینوں کے مطابق عالمی مالیاتی نظام میں ایران کے تقریباً 100 سے 120 ارب ڈالر تک کے اثاثے مختلف پابندیوں کی وجہ سے منجمد ہیں، جن کے مستقبل پر مذاکرات میں اہم بحث جاری ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ علاقائی سلامتی، خصوصاً آبنائے ہرمز کی صورتحال اور خلیجی ممالک پر ممکنہ اثرات بھی ان مذاکرات کا اہم حصہ ہیں۔
مزید پیش رفت کا انحصار آئندہ سفارتی رابطوں اور فریقین کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات پر ہوگا۔
PNP
Comments are closed.