by Rao Imran Suleman
Rao Nama

مرکزی کرداروں کی ناکامی کا عتراف کافی نہیں بلکہ سسٹم کو درست بھی کرنا ہوگا، حافظ نعیم الرحمان

کراچی (پی این پی) جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اقدامات پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سسٹم کے مرکزی کرداروں کی جانب سے ناکامی کا اعتراف کافی نہیں بلکہ اس نظام کو درست بھی کرنا ہوگا۔

نجی ٹی وی چینل ’’ ایکسپریس  نیوز‘‘ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے ادارہ نورحق کراچی میں میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سسٹم کے مرکزی کرداروں کی جانب سے صرف سسٹم کی ناکامی کا اعتراف کافی نہیں ہے بلکہ اسے درست بھی کرنا ہوگا، ملک میں سسٹم کی نااہلی اور ناکامی کی تازہ مثال کراچی کے بلدیاتی انتخابات و عوامی مینڈیٹ پر ڈاکا اور گزشتہ عام انتخابات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئین کو مقدم رکھنے سے ملک کے تمام مسائل حل کیے جاسکتے ہیں، موجودہ حکومت نے ایک سال میں 1900 ارب روپے پیٹرولیم لیوی وصول کرکے تمام حدیں پار کردی ہیں، نظام کی نااہلی اور کرپشن کا بوجھ پاکستان کا ہر غریب شہری اٹھا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم لیوی کا عذاب پوری قوم بھگت رہی ہے، پیٹرولیم لیوی بھتہ ٹیکس کے خلاف ملک بھر میں عوام نے سڑکوں پر نکل کر منظم احتجاج کیا، سیکڑوں مقامات پر ایمبولینسوں کو منظم انداز میں راستہ دیا گیا، 16 اگست کو بیک وقت کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں گورنر ہاؤسز اور لاہور میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر دھرنا دیا جائے گا لہٰذا تمام دینی و سیاسی جماعتوں کے کارکنان جماعت اسلامی کے احتجاج میں شرکت کریں، پرامن سیاسی مزاحمت وقت کی ضرورت ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ایف بی آر میں تقریباً 25 ہزار افراد کام کرتے ہیں، سیکڑوں افسران کو کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیاں اور مفت پیٹرول کی سہولت حاصل ہے، اس کے باوجود ٹیکس اہداف پورے نہیں کیے جاتے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں موجودہ حکومت عوام کی حقیقی رائے کے بجائے فارم 47کے ذریعے اقتدار میں آئی ہے، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کو 15 اور پاکستان پیپلز پارٹی کو 7 نشستیں دی گئیں، جو انتخابی نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے، عوام کی رائے اور آئین کو مدنظر رکھتے ہوئے انتظامی یونٹس بنانے کا مسئلہ حل ہونا چاہیے۔



PNP

Comments are closed.