احتجاجی کال کا مقصد آزاد کشمیر انتخابات کو رکوانا ہے: رانا ثناء اللّٰہ
وزیرِ اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ احتجاجی کال کا مقصد آزاد کشمیر کے انتخابات کو رکوانا ہے، کیا دھرنے اور جتھوں سے الیکشن رکوانا ممکن ہے؟
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ مظاہرین راولا کوٹ میں دھرنا دیے بیٹھے ہیں، باقی کہیں کوئی احتجاج نہیں، کالعدم ایکشن کمیٹی کا مطالبہ ہے کہ اسمبلی میں مہاجرین کی 12 سیٹیں ختم کر دی جائیں، اس مطالبے کی بنیاد پر مظفر آباد کی طرف لشکر کشی کرنا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ سیٹوں سے متعلق ان کے مطالبے پر عمل درآمد کا اختیار آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کا ہے، کالعدم ایکشن کمیٹی نے مہاجرین کی نشستوں کے معاملے پر اے پی سی میں جانے سے انکار کیا، کالعدم ایکشن کمیٹی کو کئی آپشن دیے گئے جن سے انکار کر دیا گیا، کالعدم ایکشن کمیٹی نے جتھہ کلچر کے ذریعے اپنا مطالبہ منوانے کا راستہ اپنایا۔
رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ آئینی و قانونی ہے، معاملے پر 6 رکنی کمیٹی بنائی گئی تھی، طے ہوا تھا کہ کمیٹی مہاجرین کی نشستوں پر اپنی سفارشات آزاد کشمیر حکومت کو پیش کرے گی، مہاجرین کو حق رائے دہی سے محروم کرنا تحریکِ آزادی کے مقصد سے انحراف ہے۔
ن لیگ کے رہنما نے کہا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی نے ایک سال پہلے کشمیر میں جلاؤ گھیراؤ کا راستہ اپنایا، ایکشن کمیٹی کے اس وقت اہم مطالبات تھے، کالعدم ایکشن کمیشن کا بجلی سے متعلق 10 ارب روپے کا مطالبہ تھا، کالعدم ایکشن کمیٹی کے ساتھ گزشتہ سال مظفرآباد میں مذاکرات کیے، آزاد کشمیر میں آج بھی بجلی ساڑھے 3 روپے یونٹ دی جاتی ہے، آج پورے پاکستان میں بجلی کے نرخ سب کو معلوم ہیں۔
وزیر اعظم کے مشیر کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال کالعدم ایکشن کمیٹی نے 38 مطالبات پیش کیے تھے، مطالبات میں سے کوئی ایسا مطالبہ نہیں تھا جس پر کام نہیں کیا گیا، بجلی کی رقم درست کرنے کے لیے 10 ارب روپے کی رقم فراہم کی، آزاد کشمیر کے لیے گندم پر سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔
PNP
Comments are closed.