by Rao Imran Suleman
Rao Nama

این سی اے کیمپ گراؤنڈ تک محدود نہیں بلکہ کھلاڑیوں کیلئے انگلش کلاسز بھی ہوئیں: سلمان علی آغا

—فوٹو بشکریہ رپورٹر

پاکستان کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر سلمان علی آغا کا کہنا ہے کہ این سی اے کیمپ گراؤنڈ تک ہی محدود نہیں تھا بلکہ کھلاڑیوں کے لیے انگلش کی کلاسز اور دماغی طور پر مضبوط کرنے کے لیکچرز کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

سلمان علی آغا نے ’جیو نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہو ئے کہا کہ این سی اے کیمپ میں گراونڈ سے ہٹ کر بھی ہمیں لیکچرز دیے جا رہے ہیں، ہماری انگلش کی کلاسز بھی ہوتی ہیں، دماغی طور پر مضبوط کرنے کے لیکچرز ہوئے، ماہرین نے ہمیں بتایا ہے کہ دباؤ کا کیسے مقابلہ کرنا ہے، ذہنی طور پر مضبوط ہوئے ہیں، کیمپ میں ہر اس چیز پر فوکس کیا گیا ہے جس کی پرو فیشنل کھلاڑیوں کو ضرورت ہوتی ہے۔

اُنہوں نے فٹنس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں ضرور تینوں فارمیٹ کھیلتا ہوں، لیکن اس وقت میرا فوکس صرف ریڈ بال کرکٹ ہے، تینوں فارمیٹ کھیلنے کے لیے ہی نہیں بلکہ فٹنس ویسے ہی بہت ضروری ہے، فٹ نہیں ہوں گے تو انجری ہو گی، پروفیشنل ہیں، ہمیں پیسہ ملتا ہے، اس کے لیے فٹ رہنا ہے، ہم بچپن سے جو چاہ رہے تھے وہ ہمیں مل رہا ہے، تو پھر ہماری ذمے داری ہے کہ ہم خود کو فٹ رکھیں، ہمیں فٹنس کا وہ معیار رکھنا ہے جو انٹرنیشنل کرکٹ میں ضروری ہے، پی سی بی نے فٹنس کے حوالے سے سختی سے زیرو ٹالرینس پالیسی اپنا لی ہے۔

سلمان علی آغا کا پری سیزن کیمپ کے بارے میں کہنا ہے کہ پی سی بی کا پری سیزن کیمپ لگانے کا فیصلہ بہت اچھا تھا، 3 فارمیٹس کی وجہ سے ٹائم کم ملتا ہے، اب آف سیزن میں مختلف چیزوں پر کام کیا، لگاتار ٹیسٹ میچز آ رہے ہیں، 5 مسلسل ٹیسٹ ہیں، پھر 2 ٹیسٹ ہوم گراؤنڈ پر ہیں، اس لیے ریڈ بال کرکٹ کے لیے تیاری پر فوکس رہا ہے اور اس کا فرق نظر بھی آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس کیمپ میں نئے ٹیسٹ ہوئے جو ماضی میں نہیں ہوئے، کیمپ صبح 6 بجے شروع ہوتے رہے ہیں، پورا پورا دن اکٹھے گزارا، تھکاوٹ کے عادی ہو گئے ہیں، عادی ہونا ٹیسٹ میچز کے لیے بہت ضروری ہے، بے شک لاہور کا موسم بہت سخت ہے، لیکن پروفیشنل ہونے کے ناتے ہمیں اس کا فائدہ اٹھانا ہے، جب آپ عادی ہوں تو پھر موسم کی وجہ سے مسائل نہیں بلکہ فائدہ ہوتا ہے، اگرچہ جہاں کھیلنا ہے وہاں اتنی گرمی نہیں ہے جتنی یہاں ہے، لیکن سخت ٹریننگ وہاں کام آئے گی۔

سلمان علی آغا نے کہا کہ انفرادی طور پر مجھے لگتا تھا کہ دو تین چیزوں پر کام کرنا ہے، ان پر کام کیا، میرا آغاز اچھا ہوتا تھا لیکن میں لمبی اننگز نہیں کھیل پا رہا، یہ میرا مسئلہ ہی نہیں دوسرے بیٹرز کا بھی ہے، اس پر بہت کام کیا کہ بڑے رنز کیسے کرنے ہیں، 60 سے 70 کو سنچری اور پھر ڈیڑھ سو کی طرف کیسے لے کر جانا ہے۔



PNP

Comments are closed.