غزہ: جنگ کے بعد انتظامی ڈھانچے پر سفارتی مشاورت تیز، حملے بھی جاری
غزہ میں جنگ کے بعد کے انتظامی نظام اور تعمیرِ نو سے متعلق سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں رواں ہفتے قبرص میں ایک اہم اجلاس متوقع ہے، جس میں غزہ کے مستقبل کے انتظامی ڈھانچے اور جنگ کے بعد سول گورننس کے مختلف ماڈلز پر غور کیا جائے گا۔
اطلاعات کے مطابق اجلاس میں فلسطینی ماہرین پر مشتمل ایک ٹیکنوکریٹک انتظامی کمیٹی کے قیام سے متعلق تجاویز بھی زیرِ بحث آئیں گی، تاکہ جنگ کے خاتمے کے بعد غزہ میں انتظامی امور کو مؤثر انداز میں چلایا جا سکے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ غزہ کے مستقبل کے انتظامی معاملات کے لیے ایک پینل پہلے ہی تشکیل دیا جا چکا ہے، جس کے ارکان گزشتہ چند ماہ سے قاہرہ میں گورننس اور انتظامی امور سے متعلق تربیت حاصل کر رہے ہیں۔
اسی دوران جنگ کے بعد غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے عالمی سطح پر مالی تعاون کے اعلانات بھی سامنے آئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اب تک تقریباً 17 ارب ڈالر کی امداد اور عطیات کا اعلان کیا جا چکا ہے، جنہیں مستقبل میں بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور تعمیرِ نو کے منصوبوں پر خرچ کیے جانے کی توقع ہے۔
دوسری جانب غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق تازہ حملوں میں کم از کم چھ فلسطینی جان سے گئے جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔
اطلاعات کے مطابق دیر البلح کے علاقے البرکہ میں فضائی حملے کے نتیجے میں تین افراد، جن میں ایک آٹھ سالہ بچہ بھی شامل تھا، ہلاک ہوئے۔ خان یونس کے ساحلی علاقے میں بے گھر افراد کے ایک خیمے کو نشانہ بنائے جانے کی بھی اطلاعات ہیں، جہاں مزید دو افراد جان سے گئے اور کئی زخمی ہوئے۔
طبی ذرائع کے مطابق متاثرین کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ خان یونس کے نواحی علاقوں میں متعدد رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا، جبکہ النصیرات اور البریج پناہ گزین کیمپوں کے اطراف بھی فائرنگ کے واقعات پیش آئے۔
فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک اسرائیلی کارروائیوں میں ایک ہزار سے زائد فلسطینی جان سے جا چکے ہیں جبکہ ہزاروں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ وزارت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے جاری جنگ میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 73 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
آزاد ذرائع سے ان تمام اعداد و شمار اور دعوؤں کی مکمل تصدیق ممکن نہیں ہو سکی، جبکہ اسرائیلی حکام کی جانب سے ان تمام واقعات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔
PNP
Comments are closed.