by Rao Imran Suleman
Rao Nama

اسرائیل نے خلائی دفاعی ٹیکنالوجی پر کام تیز کرنے کا اعلان کردیا

اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ ان کا ملک مستقبل کی دفاعی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے جدید لیزر ٹیکنالوجی اور خلائی صلاحیتوں پر کام کر رہا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اسرائیل جدید دفاعی میدان میں برتری حاصل کرنے کے لیے سائنس دانوں اور ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر لا رہا ہے تاکہ نئی ٹیکنالوجیز تیار کی جا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا ہدف ایسی صلاحیتیں حاصل کرنا ہے جو مستقبل میں خلائی میدان میں بھی دفاعی برتری فراہم کر سکیں۔ ان کے مطابق، اس شعبے میں کامیابی اسرائیل کی دفاعی حکمت عملی کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ پہلا موقع ہے کہ کسی اسرائیلی عہدیدار نے عوامی سطح پر خلائی لیزر ٹیکنالوجی سے متعلق اس نوعیت کا بیان دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خلائی دفاع اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے شعبے میں دنیا کے کئی ممالک پہلے ہی مختلف منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، جن میں سیٹلائٹس کے تحفظ، الیکٹرانک جنگ اور اینٹی سیٹلائٹ صلاحیتوں کی تحقیق بھی شامل ہے۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیل پہلے ہی “آئرن بیم” نامی زمینی لیزر دفاعی نظام تیار کر چکا ہے، جو راکٹوں اور ڈرونز کو روکنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جبکہ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کے مزید جدید استعمال پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق خلائی میدان میں بڑھتی ہوئی مسابقت کے باعث مختلف ممالک اپنی سیٹلائٹ صلاحیتوں کے تحفظ اور جدید دفاعی نظاموں کی تیاری پر توجہ دے رہے ہیں۔

PNP

Comments are closed.