by Rao Imran Suleman
Rao Nama

ملک بھر میں طوفانی بارشوں سے تباہی، 14 افراد جاں بحق، درجنوں زخمی

مون سون بارشوں سے نظامِ زندگی متاثر، سیلاب اور حادثات میں متعدد قیمتی جانیں ضائع

0

طوفانی بارشوں نے ملک بھر میں تباہی مچا دی، 14 افراد جاں بحق، درجنوں زخمی

اسلام آباد / لاہور / پشاور / کوئٹہ / کراچی: ملک بھر میں جاری مون سون کی طوفانی بارشوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، مختلف حادثات میں کم از کم 14 افراد جاں بحق جبکہ درجنوں افراد زخمی ہو گئے۔ شدید بارشوں، آسمانی بجلی گرنے، مکانات کی چھتیں اور دیواریں گرنے، سیلابی ریلوں اور حادثات کے باعث کئی علاقوں میں معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے۔

سوات میں سیف اللہ جھیل میں سیاحوں کی کشتی ڈوبنے سے ایک ہی خاندان کے 6 افراد جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک خاتون تاحال لاپتہ ہے جس کی تلاش جاری ہے۔

اٹک میں بارش کے باعث دیوار اور چھت گرنے کے دو مختلف واقعات میں دو بھائیوں سمیت تین افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ پانچ افراد زخمی ہوئے۔

لنڈی کوتل میں آسمانی بجلی گرنے سے دو بچے جاں بحق اور چار افراد زخمی ہو گئے، جبکہ دیر بالا میں بجلی گرنے سے مدرسے کی 20 طالبات زخمی ہوئیں۔

ژوب میں بارش کے دوران چھت گرنے سے ایک خاتون اور ایک بچہ جاں بحق ہو گئے، جبکہ گنجیال قائد آباد میں آسمانی بجلی گرنے سے ایک شہری زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

ایبٹ آباد میں برساتی نالے میں گاڑی بہنے سے تین افراد زخمی ہوئے، جبکہ مردان میں تیز بارش کے دوران سائن بورڈ اور دیوار گرنے سے دو بچوں سمیت تین افراد زخمی ہو گئے۔

دوسری جانب اسلام آباد، راولپنڈی اور لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں موسلا دھار بارش سے موسم خوشگوار ہو گیا، تاہم کئی علاقوں میں فیڈرز ٹرپ ہونے سے بجلی کی فراہمی متاثر رہی۔

اٹک، پنڈی بھٹیاں، منڈی بہاؤالدین، سرگودھا، بھیرہ، حافظ آباد، قصور، مریدکے اور گجرات میں بھی شدید بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا۔

ہری پور میں ندی نالوں میں طغیانی آ گئی جبکہ ایبٹ آباد میں بارش کے بعد سڑکیں زیرِ آب آ گئیں اور بارش کا پانی متعدد دکانوں میں داخل ہو گیا۔

خضدار، ژوب، کوہلو اور صوابی میں بھی بارش اور بعض علاقوں میں ژالہ باری ہوئی، جبکہ کراچی کے مختلف علاقوں، جن میں نیو کراچی، گلشنِ معمار اور گڈاپ شامل ہیں، بوندا باندی سے موسم خوشگوار ہو گیا۔

گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کے علاقوں گیس بالا، گیس پائین اور نیاٹ ویلی میں مون سون بارشوں کے بعد سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی، جس سے رابطہ سڑکیں متاثر ہوئیں اور سیلابی پانی گھروں میں داخل ہو گیا۔ فصلوں، باغات اور زرعی اراضی کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ کئی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہونے سے شہری مشکلات کا شکار ہیں۔

ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام کے مطابق متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے اقدامات جاری ہیں۔ این ڈی ایم اے نے ملک کے بالائی علاقوں، خصوصاً گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور اچانک سیلاب کے خطرے کے پیشِ نظر الرٹ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.