by Rao Imran Suleman
Rao Nama

ایران حملوں کے بعد قطر کا بڑا فیصلہ

دوحہ: خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں قطر نے عوامی تحفظ کے پیش نظر ملک بھر میں بیشتر چھوٹی سمندری سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ احتیاطی اقدامات کے طور پر کیا گیا ہے اور نئی ہدایات جاری ہونے تک نافذ رہے گا۔
قطر کی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق تفریحی کشتیوں، ماہی گیری کی کشتیوں، جیٹ اسکیز اور دیگر چھوٹی سمندری گاڑیوں کی آمدورفت فوری طور پر روک دی گئی ہے۔ تاہم بین الاقوامی قوانین کے تحت چلنے والے تجارتی اور غیر ملکی بحری جہاز اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے اور معمول کے ضوابط کے مطابق اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں گے۔
حکام نے شہریوں اور کشتی مالکان کو ہدایت کی ہے کہ وہ حفاظتی اقدامات پر مکمل عمل کریں اور سمندری سرگرمیوں سے متعلق کسی بھی نئی اطلاع کے لیے صرف سرکاری ذرائع پر اعتماد کریں۔
دوسری جانب قطر کی وزارتِ خارجہ نے ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ملکی خودمختاری اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ قطری حکام کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات خطے کے امن و استحکام کو متاثر کر سکتے ہیں اور کشیدگی میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں۔
قطر نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق اقدامات کا حق رکھتا ہے، تاہم دوحہ نے خطے میں کشیدگی کم کرنے، جنگ بندی اور سفارتی کوششوں کی بحالی پر بھی زور دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق خلیجی خطے میں جاری تناؤ کے باعث بحری راستوں، توانائی کی ترسیل اور علاقائی سلامتی سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں، جس کے پیش نظر مختلف ممالک اضافی حفاظتی اقدامات کر رہے ہیں۔

PNP

Comments are closed.