توہینِ مذہب اور پیکا ایکٹ کیس؛ ریحان طارق کے حق میں علماء کے فتوے پیش کردیئے گئے
اسلام آباد (پی این پی) توہینِ مذہب اور پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں نامزد اینکر پرسن ریحان طارق کو 6 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا گیا،
عدالت نے تفتیشی حکام کی رپورٹ اور فریقین کے دلائل سننے کے بعد اینکر ریحان طارق کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا، جس کے فوراً بعد ملزم کی جانب سے ضمانت کی درخواست دائر کر دی گئی۔
اطلاعات کے مطابق اینکر ریحان طارق کو ان کا 6 روزہ جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر پولیس کے تفتیشی حکام کی جانب سے سخت ترین سکیورٹی حصار میں عدالت کے روبرو پیش کیا گیا، دورانِ سماعت تفتیشی ٹیم نے عدالت کو اب تک ہونے والی تفتیش اور کیس کی پیش رفت سے آگاہ کیا، عدالت نے فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد ریحان طارق کا مزید جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم صادر فرمایا اور آئندہ کارروائی کے لیے سماعت مقرر کر دی۔
بتایا گیا ہے کہ دورانِ سماعت اینکر پرسن ریحان طارق کی لیگل ٹیم نے عدالت میں دفاعی حکمتِ عملی کے تحت ملک کے مقتدر اور جید علماء کرام کے فتاویٰ جات عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنوائے، ان فتاویٰ جات میں مذہبی اور تاریخی احادیث کا حوالہ دیتے ہوئے ممتاز مذہبی اسکالرز نے ریحان طارق کے مؤقف کی تائید کی، علماء کرام نے اپنے متفقہ فتاویٰ میں قرار دیا ہے کہ اینکر پرسن ریحان طارق کی جانب سے پروگرام میں محض سوال پوچھنا کسی بھی طرح سے توہین یا بے ادبی کے زمرے میں نہیں آتا۔
مزید یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ عدالت کی جانب سے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجے جانے کے فوراً بعد ریحان طارق کے وکلاء کی جانب سے عدالت میں باقاعدہ ضمانت کی درخواست دائر کر دی گئی ہے، عدالت نے درخواستِ ضمانت کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے فریقین کو نوٹسز جاری کر دیئے ہیں، جس پر اب حتمی بحث جمعرات 16 جولائی 2026ء کو ہوگی۔
PNP
Comments are closed.