کراچی (پی این پی) ایران اور امریکا کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی میں اضافے کے باوجود پاکستان میں ایرانی ریال کی خرید و فروخت کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
نجی ٹی وی چینل ’’ اے آر وائی نیوز‘‘ کے مطابق اوپن کرنسی مارکیٹ میں ایرانی ریال کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی تازہ ترین شرح تبادلہ جاری کر دی گئی، جس کے مطابق حالیہ ایام میں ایرانی کرنسی کی قدر میں بہتری کا رجحان برقرار ہے۔
تازہ امریکی حملوں اور آبنائے ہرمز میں ایران کی جوابی کارروائیوں کے باعث خطے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، تاہم اس کے باوجود پاکستانی خریدار مستقبل میں ایرانی کرنسی کی قدر بڑھنے کی امید پر ریال خرید رہے ہیں۔
ایران کے مرکزی بینک (سی بی آئی) کی 14 جولائی 2026 کی جاری کردہ شرح مبادلہ کے مطابق ایک امریکی ڈالر کی سرکاری قیمت 13 لاکھ 59 ہزار 712 ایرانی ریال ریکارڈ کی گئی، جو ایک روز قبل 13 لاکھ 58 ہزار 323 ریال تھی۔ اسی دوران ایک یورو کی قیمت معمولی کمی کے بعد 15 لاکھ 50 ہزار 497 ریال ہوگئی۔
اسی طرح 100 پاکستانی روپے کی مالیت 4 لاکھ 89 ہزار 83 ایرانی ریال تک پہنچ گئی، جبکہ پاکستانی مارکیٹ میں ایک کروڑ ایرانی ریال کا پیکٹ اب بھی تقریباً 6 ہزار سے 7 ہزار پاکستانی روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔
ایران کے SANA ایکسچینج سسٹم کے مطابق ایک امریکی ڈالر تقریباً 14 لاکھ 96 ہزار 270 ایرانی ریال جبکہ ایک یورو 17 لاکھ 6 ہزار 216 ریال میں ٹریڈ ہو رہا ہے۔
دوسری جانب اوپن یا بلیک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قیمت 18 لاکھ 10 ہزار سے 18 لاکھ 40 ہزار ایرانی ریال کے درمیان رہی، جبکہ ایک یورو 20 لاکھ 60 ہزار سے 20 لاکھ 90 ہزار ایرانی ریال تک فروخت ہوا۔
سرکاری اور اوپن مارکیٹ کے نرخوں میں نمایاں فرق ایران پر عائد پابندیوں، خطے میں جاری کشیدگی اور بین الاقوامی تجارتی راستوں میں رکاوٹوں کا عکاس قرار دیا جا رہا ہے۔
موجودہ مڈ مارکیٹ ریٹ کے مطابق ایک ایرانی ریال کی مالیت تقریباً 0.000202 پاکستانی روپے ہے، جبکہ ایک پاکستانی روپیہ تقریباً 4 ہزار 950 سے 4 ہزار 956 ایرانی ریال کے برابر بنتا ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق پاکستان میں ایرانی ریال کی طلب اس توقع پر برقرار ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی آئی، پابندیاں نرم ہوئیں اور ایران کی تیل برآمدات بحال ہوئیں تو ایرانی ریال کی قدر میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم موجودہ حالات میں اوپن مارکیٹ سے زیادہ قیمت پر ریال خریدنا سرمایہ کاروں کے لیے ایک پرخطر اقدام سمجھا جا رہا ہے۔
کرنسی ڈیلرز کے مطابق اوپن مارکیٹ میں زرمبادلہ کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر تبدیل ہو سکتی ہیں۔ شرح تبادلہ پر طلب و رسد، عالمی معاشی حالات، سرحدی تجارت، بین الاقوامی پابندیوں اور مارکیٹ کے مجموعی رجحانات نمایاں اثر ڈالتے ہیں۔ اسی لیے کسی بھی مالی لین دین سے قبل تازہ ترین نرخ کی تصدیق کرنا ضروری ہے۔
PNP
Comments are closed.