by Rao Imran Suleman
Rao Nama

جنوبی ایران پر حملوں میں 30 سے زائد شہری اور 7فوجی جاں بحق، ایران کا سخت ردعمل

جنوبی ایران پر امریکی حملوں میں 30 سے زائد شہری اور 7 فوجی جاں بحق ہونے کے بعد خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ ایرانی حکام نے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے کھلی جارحیت قرار دیا ہے اور مناسب وقت پر بھرپور جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق جنوبی ایران میں حالیہ امریکی حملوں کے نتیجے میں 30 سے زائد شہری جاں بحق ہوئے،جبکہ ایک علیحدہ حملے میں ایرانی فوج کے 7 اہلکار بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔

ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں شہری ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ تعزیت کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوب مشرقی ایران کے ایک فوجی اڈے پر امریکی میزائل حملے میں کم از کم سات فوجی ہلاک اور متعدد اہلکار زخمی ہوئے۔ فوج کے مطابق حملے میں فوجی تنصیبات، گارڈ پوسٹس اور دیگر عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق حملہ سیستان و بلوچستان صوبے کے علاقے ایرانشہر کے قریب واقع بمپور گیریژن پر کیا گیا، جہاں متعدد میزائل داغے گئے۔

ایرانی فوج نے اس حملے کو جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مناسب وقت پر جواب دیا جائے گا اور ہلاک ہونے والے اہلکاروں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔

واضح رہے کہ حملے اور اس میں ہونے والے نقصانات سے متعلق دعوے ایرانی حکام کی جانب سے سامنے آئے ہیں، جبکہ امریکی حکام کی طرف سے ان دعوؤں پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

PNP

Comments are closed.