by Rao Imran Suleman
Rao Nama

پاکستان کو 16 بوئنگ طیاروں میں سے 5طیاروں کی پہلی کھیپ جلد ملنے کا امکان

اسلام آباد (پی این پی) پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ سے درخواست کی ہے کہ وہ 16 بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیاروں کے مجوزہ معاہدے میں سے کم از کم پانچ طیاروں کی فراہمی مقررہ وقت سے پہلے یقینی بنائے۔

ذرائع کے مطابق پی آئی اے کی کوشش ہے کہ ان جدید طیاروں کی پہلی کھیپ جلد از جلد اس کے بیڑے میں شامل ہو تاکہ بین الاقوامی آپریشنز کو وسعت دی جا سکے۔عرب نیوز سے گفتگو کرنے والے پی آئی اے کے دو شیئر ہولڈرز نے بتایا کہ ابتدائی طور پر بوئنگ کی جانب سے ان طیاروں کی فراہمی 2028 میں متوقع تھی، تاہم حالیہ مذاکرات کے بعد امکان پیدا ہوا ہے کہ پہلے پانچ ڈریم لائنر 2027 کی پہلی ششماہی، یعنی جنوری سے جون کے دوران فراہم کر دیے جائیں گے۔یہ پیش رفت پی آئی اے کی نئی انتظامیہ اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ دورۂ امریکا کے بعد سامنے آئی، جہاں انہوں نے واشنگٹن میں بوئنگ کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا۔ وزارت داخلہ کے مطابق ملاقات کے دوران محسن نقوی اور بوئنگ کے گلوبل صدر برینڈن نیلسن نے 16 نئے طیاروں کی خریداری سے متعلق بہترین اور جلد معاہدہ طے کرنے پر اتفاق کیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت بنیادی مسئلہ معاہدے کی شرائط نہیں بلکہ طیاروں کی بروقت فراہمی ہے۔ پی آئی اے انتظامیہ چاہتی ہے کہ کم از کم پانچ طیارے جلد فراہم کیے جائیں تاکہ ائیرلائن اپنے بین الاقوامی نیٹ ورک کو تیزی سے وسعت دے سکے۔شیئر ہولڈرز کے مطابق اگر یہ طیارے 2027 میں مل جاتے ہیں تو پی آئی اے کے لیے کینیڈا سمیت متعدد بین الاقوامی روٹس بحال یا مزید فعال کرنا ممکن ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بوئنگ 787 ڈریم لائنر جدید ٹیکنالوجی، بہتر ایندھن بچت اور آپریشنل صلاحیت کے باعث بوئنگ 777 کے مقابلے میں زیادہ مؤثر طیارہ تصور کیا جاتا ہے۔

پی آئی اے اس وقت لندن، دبئی، ریاض، بیجنگ اور دیگر کئی عالمی شہروں کے لیے پروازیں چلا رہی ہے۔ اس کے موجودہ بیڑے میں بوئنگ 777، ایئربس اے 320 اور اے ٹی آر طیارے شامل ہیں، جبکہ نئی انتظامیہ مستقبل میں بیڑے کو نمایاں طور پر وسعت دینے کا منصوبہ رکھتی ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں پی آئی اے کی نجکاری مکمل ہوئی تھی، جس کے تحت عارف حبیب کارپوریشن کی سربراہی میں قائم کنسورشیم نے تقریباً 135 ارب روپے کے عوض قومی ائیرلائن کے 75 فیصد حصص حاصل کیے تھے۔ نجکاری سے قبل پی آئی اے کو اربوں ڈالر کے مالی خسارے کا سامنا تھا۔بحالی منصوبے کے تحت آئندہ تقریباً آٹھ برسوں میں پی آئی اے اپنے بیڑے کو موجودہ 19 طیاروں سے بڑھا کر 64 طیاروں تک لے جانے کا ہدف رکھتی ہے۔ اسی سلسلے میں اطلاعات ہیں کہ ایتھوپین ایئرلائنز کے سابق سربراہ تیوولڈے گیبرمریم کو پی آئی اے کا نیا چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر کرنے کا عمل بھی آخری مراحل میں ہے، تاہم سیکیورٹی کلیئرنس مکمل ہونے کے بعد ہی اس حوالے سے باضابطہ اعلان متوقع ہے۔

PNP

Comments are closed.