چین اور فلپائن میں سمندری حدود کا تنازع شدت اختیار کر گیا
بحیرہ جنوبی چین کے متنازع علاقے میں چین اور فلپائن کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی پیدا ہوگئی، جہاں دونوں ممالک کے فوجی اہلکاروں کے درمیان مبینہ ہاتھا پائی کی ویڈیوز سامنے آئی ہیں۔
غیر ملکی رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ سیکنڈ تھامس شول کے قریب پیش آیا، جو ایک متنازع سمندری مقام ہے اور اس پر چین اور فلپائن دونوں اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔
فلپائنی حکام کے مطابق چینی کوسٹ گارڈ کی ایک کشتی متنازع علاقے میں پہنچی، جہاں موجود فلپائنی بحری اہلکاروں کے ساتھ صورتحال کشیدہ ہوگئی۔ فلپائن کا دعویٰ ہے کہ جھڑپ کے دوران اس کے ایک اہلکار کو چوٹ لگی جبکہ ایک کشتی کو بھی نقصان پہنچا۔
دوسری جانب چین نے فلپائن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے اہلکار معمول کی گشت پر تھے اور انہوں نے کسی اشتعال انگیزی کے بغیر سمندری حدود کے تحفظ کے لیے کارروائی کی۔
The China Coast Guard (CCG) has urged the Philippines to immediately stop infringements, provocations and groundless hype after Philippine personnel from an illegally grounded vessel aggressively harassed a small CCG patrol boat near China’s Ren’ai Jiao on Monday.
At around 9… pic.twitter.com/jbKcixdpHn
— China Military Bugle (@ChinaMilBugle) July 20, 2026
چینی حکام کا مؤقف ہے کہ فلپائنی کشتیاں ان کے قریب آئیں اور خبردار کیے جانے کے باوجود راستہ تبدیل نہیں کیا، جس کے بعد صورتحال کو قابو کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے گئے۔
بحیرہ جنوبی چین دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شامل ہے، جہاں چین، فلپائن سمیت کئی ممالک کے درمیان سمندری حدود کے حوالے سے طویل عرصے سے اختلافات موجود ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ واقعہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی نشاندہی کرتا ہے، جبکہ ماہرین زور دے رہے ہیں کہ ایسے معاملات کو سفارتی ذرائع سے حل کرنا ضروری ہے تاکہ کسی بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔
PNP
Comments are closed.