امریکا نے ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کی مہم مزید تیز کرتے ہوئے ترکیہ میں قائم ایک بینک اور اس سے وابستہ 2 مالیاتی اداروں پر نئی پابندیاں عائد کردی ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے بتایا کہ گولڈن گلوبل یاتریم بینک اور اس کی ذیلی کمپنیوں نے ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور، قدس فورس کے لیے کروڑوں ڈالر مالیت کے مالی لین دین میں سہولت فراہم کی تھیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کا الزام ہے کہ مذکورہ مالیاتی اداروں نے ایرانی حکومت کو ایسے بینکنگ نیٹ ورک تک رسائی فراہم کی جس کے ذریعے تہران بیرونِ ملک رقوم منتقل کرنے کے قابل ہوا۔
امریکی محکمہ خزانہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ گولڈن گلوبل بینک کے قیام کا ایک مقصد ایران کے مبینہ رہبر نیٹ ورک کو سہولت فراہم کرنا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ایک خفیہ مالیاتی نظام ہے جس کے ذریعے چین سے حاصل ہونے والی ایرانی تیل کی آمدنی ترکی منتقل کی جاتی تھی جہاں بعد ازاں اسے نقد رقم اور سونے میں تبدیل کیا جاتا تھا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس طریقہ کار نے ایران کو امریکی پابندیوں اور مالیاتی نگرانی سے بچتے ہوئے اپنی آمدنی منتقل کرنے میں مدد دی۔ امریکی محکمہ خزانہ نے دعویٰ کیا کہ گولڈن گلوبل بینک اور اس سے وابستہ اداروں نے ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے لیے کروڑوں ڈالر مالیت کے لین دین میں سہولت کاری کی۔ قدس فورس ایران کے پاسداران انقلاب کی بیرونِ ملک کارروائیوں سے متعلق اہم یونٹ ہے اور امریکا پہلے ہی اسے دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔
امریکی حکومت کے مطابق ایران سے وابستہ مالیاتی نیٹ ورکس کو نشانہ بنانے کا مقصد تہران کے لیے بیرون ملک رقوم منتقل کرنا اور اپنے علاقائی و عسکری پروگراموں کو مالی معاونت فراہم کرنا مشکل بنانا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے محکمہ خزانہ کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا کہ واشنگٹن ایسے مالیاتی اداروں کے خلاف کارروائی کے معاملے میں سنجیدہ ہے جو ان کے بقول خونی ایرانی حکومت کی معاونت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ایران سے وابستہ ایسے مالیاتی ڈھانچوں کو برداشت نہیں کرے گا جو پابندیوں سے بچنے کے لیے بین الاقوامی بینکاری نظام کا استعمال کرتے ہیں۔ ترکی ایران کے لیے ایک اہم تجارتی اور مالیاتی رابطہ رکھنے والا ملک ہے جس کی وجہ سے امریکی پابندیوں کے نفاذ میں ترکی سے وابستہ مالیاتی ادارے پہلے بھی واشنگٹن کی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔
امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ایران نے پابندیوں سے بچنے کے لیے مختلف ممالک میں موجود کمپنیوں، مالیاتی اداروں اور غیر رسمی نیٹ ورکس کو استعمال کیا، جبکہ نئی پابندیوں کا مقصد ایسے راستوں کو محدود کرنا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ معاشی دباؤ کی پالیسی پر زور دیا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت ایرانی تیل کی آمدنی، مالیاتی نیٹ ورکس اور ان اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جن کے بارے میں واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ وہ ایران کی حکومت یا پاسداران انقلاب کے لیے مالی سہولت کاری کرتے ہیں تازہ کارروائی بھی اسی وسیع تر مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد ایران کی بین الاقوامی مالیاتی سرگرمیوں کو محدود کرنا اور تہران کے لیے بیرون ملک آمدنی منتقل کرنا مزید مشکل بنانا ہے۔
PNP
Comments are closed.