بریڈفورڈ میں پاکستانی جیولرز پر دن دہاڑے ڈکیتی، عملے کی مزاحمت
بریڈفورڈ: برطانیہ کے شہر بریڈفورڈ میں پاکستانی جیولرز کی دکان پر دن دہاڑے ڈکیتی کی سنسنی خیز کوشش کی گئی، جہاں نقاب پوش مسلح افراد نے 4×4 گاڑی کے ذریعے دکان کا اگلا حصہ توڑ کر اندر داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم دکان کے عملے کی بروقت مزاحمت کے باعث ملزمان لوٹ مار کیے بغیر فرار ہوگئے۔
یہ واقعہ ہفتہ 5 ستمبر کو دوپہر تقریباً 1 بج کر 20 منٹ پر ویسٹ یارکشائر کے علاقے ڈک ورتھ لین میں واقع پاکستان جیولرز پر پیش آیا۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق ملزمان کی تعداد 6 تھی اور انہوں نے چہروں پر نقاب پہن رکھے تھے۔
واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دکان کے اندر کئی گاہک موجود تھے کہ اسی دوران ایک 4×4 گاڑی دکان کی جانب ریورس کرتے ہوئے تیزی سے آگے بڑھتی ہے اور مضبوط شیشے اور حفاظتی رکاوٹوں سے ٹکرا جاتی ہے۔
پہلی ٹکر کے نتیجے میں دکان کے سامنے کا حصہ متاثر ہوا اور اندر موجود کرسیاں بھی ادھر ادھر جاگریں۔ دکان میں موجود گاہک خوفزدہ ہوکر ایک دوسرے کے قریب ہوگئے اور خود کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے رہے۔
ملزمان نے پہلی کوشش کے بعد گاڑی کچھ پیچھے ہٹائی اور دوبارہ پوری رفتار سے دکان کی جانب ریورس کیا۔ دوسری ٹکر اتنی شدید تھی کہ دکان کا اگلا حصہ بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا اور ملبہ اندر موجود افراد سے چند فٹ کے فاصلے پر جاگرا۔
رپورٹس کے مطابق اس دوران نقاب پوش افراد دکان کے اندر داخل ہونے کی کوشش کرتے رہے، جبکہ بعض حملہ آور مبینہ طور پر تلواروں اور دیگر ہتھیاروں سے لیس تھے۔ ملزمان نے بڑے بیگ بھی اٹھا رکھے تھے تاکہ زیورات اور قیمتی سامان لوٹ کر لے جایا جا سکے۔
تاہم دکان کے عملے نے غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے مزاحمت کی۔ رپورٹ کے مطابق دکان کے مالک کے بیٹے محمد علی الیاس نے ہتھوڑے سے ایک حملہ آور کو روکنے کی کوشش کی، جس کے بعد انہوں نے بیس بال بیٹ اٹھا کر ملزمان کا پیچھا کیا۔
عملے کی مزاحمت دیکھ کر ملزمان دکان سے فرار ہونے لگے اور ایک گاڑی میں سوار ہوکر موقع سے نکلنے کی کوشش کی۔ اس دوران محمد علی الیاس نے بیس بال بیٹ سے فرار ہونے والی گاڑی کے پچھلے شیشے پر بھی وار کیا، جس سے گاڑی کا شیشہ ٹوٹ گیا۔
رپورٹ کے مطابق پوری واردات تقریباً 35 سیکنڈ تک جاری رہی اور ملزمان دکان سے کوئی زیور یا قیمتی سامان لے جانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ واقعے میں کسی شخص کے شدید زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی
واقعے کے بعد پولیس نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا، جبکہ دکان کے باہر ملزمان کی ایک گاڑی بھی موجود تھی۔ پولیس نے شواہد جمع کرنے کے ساتھ سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
رپورٹ کے مطابق واردات کے نتیجے میں دکان کو نمایاں نقصان پہنچا ہے اور مرمت کے باعث اسے کم از کم دو ہفتوں تک بند رکھنے کا امکان ہے۔ پاکستان جیولرز سے متعلق مقامی کاروباری ریکارڈ بھی ڈک ورتھ لین، بریڈفورڈ میں اس دکان کی موجودگی کی تصدیق کرتا ہے۔
دکان کے اہل خانہ نے واقعے کے باوجود کاروبار جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق خاندان گزشتہ کئی دہائیوں سے زیورات کے کاروبار سے وابستہ ہے اور واردات کے باوجود دکان دوبارہ کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ویسٹ یارکشائر پولیس کی جانب سے واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے شواہد اکٹھے کیے جارہے ہیں۔
PNP
Comments are closed.