اسرائیلی وزیرکے مسجداقصیٰ میں داخلے پرپاکستان سمیت8اسلامی ممالک کااظہارمذمت
اسرائیلی وزیر اتمار بن گویر کے سینکڑوں یہودیوں کے ہمراہ مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہونے کے بعد متعدد مسلم ممالک نے اس اقدام کو ’اشتعال انگیز‘ اور ’ناقابل قبول‘ قرار دیتے ہوئے اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
اتمار بن گویر کے ہمراہ سینکڑوں یہودی، جن میں آبادکار بھی شامل تھے، جمعرات کو علی الصبح مسجد اقصیٰ میں داخل ہو گئے تھے، جہاں ان میں سے متعدد نے عبادت بھی کی تھی۔ اس اقدام کو وہاں کئی دہائیوں سے قائم اسٹیٹس کو‘ کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔
انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے اسرائیلی وزیر اتمار بن گویر نے یہ دورہ یہودیوں کے یوم سوگ تِشا بآو‘‘ کے موقع پر کیا، جب پہلے اور دوسرے ہیکل کی تباہی کی یاد منائی جاتی ہے۔
پاکستان سمیت آٹھ ممالک نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے اس اقدام کو اشتعال انگیز‘‘ اور ناقابل قبول‘‘ قرار دیتے ہوئے اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق یہ مشترکہ بیان پاکستان، مصر، ترکی، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری کیا گیا۔
اتمار بن گویر نے مسجد اقصیٰ کے احاطے سے جاری کی گئی ایک ویڈیو میں کہا،دیکھیں یہاں کیا ہو رہا ہے، یہودی یہاں عبادت کر رہے ہیں اور خود کو اس مقام کا اصل مالک سمجھتے ہیں۔ ہر طرف لوگ یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ ریاست اسرائیل ہی یہاں خود مختار اتھارٹی ہے۔ ابھی مزید کام باقی ہے اور خدا کی مدد سے ہم آگے بڑھتے رہیں گے۔‘
مسجد اقصیٰ کا احاطہ مقبوضہ مشرقی یروشلم میں واقع ہے، جو مسلمانوں کے لیے تیسرا مقدس ترین مقام ہے ۔ یہودیوں کے لیے یہ ان کا مقدس ترین مقام سمجھا جاتا ہے، جہاں ان کے عقیدے کے مطابق قدیم ہیکل موجود تھے۔
PNP
Comments are closed.