تحریکِ آزادی سے خوفزدہ مودی سرکار پھر کشمیریوں پر برس پڑی
تحریکِ آزادی کی آواز کو دبانے کے لیے مودی سرکار کے اقدامات پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں سیکیورٹی کارروائیوں، گرفتاریوں اور چھاپوں کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے۔ مختلف ذرائع کے مطابق بھارتی فورسز نے اننت ناگ واقعے کے بعد بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کیا، جس پر سیاسی رہنماؤں اور انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
مختلف ذرائع کے مطابق ضلع اننت ناگ میں ایک پولیس اہلکار کے قتل کے بعد بھارتی سیکیورٹی فورسز نے مقبوضہ وادی میں کریک ڈاؤن تیز کر دیا ہے۔ متعدد علاقوں میں سرچ آپریشن کیے گئے، جبکہ کئی افراد کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق بعض مقامات پر رہائشی املاک کو نقصان پہنچانے کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس اور دیگر ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کارروائیوں کے دوران متعدد افراد گرفتار کیے گئے، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔
بھارتی حکام کا مؤقف ہے کہ سیکیورٹی کارروائیاں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے اور شدت پسند سرگرمیوں کے خاتمے کے لیے کی جا رہی ہیں، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات سے عام شہری متاثر ہوتے ہیں اور حالات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی ایسے واقعات کے بعد بڑے پیمانے پر کارروائیاں دیکھی گئی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔
سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی کارروائیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بڑے پیمانے پر گرفتاریاں اور گھروں کو نقصان پہنچانے کے اقدامات سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ عوام میں مزید بے چینی پیدا ہو سکتی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی مقبوضہ جموں و کشمیر میں شہری آزادیوں اور انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ عالمی سطح پر بھی خطے کی صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
دوسری جانب بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ تمام کارروائیاں قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے کی جا رہی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں جاری موجودہ صورتحال پر سیاسی اور انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔
PNP
Comments are closed.