by Rao Imran Suleman
Rao Nama

این سی سی آئی اے میں پیشی، رضوان، امام الحق نے جواب کیلئے مزید وقت مانگ لیا

قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی امام الحق اور محمد رضوان نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں پیش ہوگئے، جہاں انگلینڈ سیریز کے دوران مبینہ ڈریسنگ روم لیکس اور موبائل فون سے حاصل ہونے والی معلومات سے متعلق دونوں کرکٹرز سے دو گھنٹے پوچھ گچھ کی گئی۔ 

ذرائع کے مطابق این سی سی آئی اے نے دونوں کھلاڑیوں سے انگلینڈ میں پریکٹس اور میچز کے دوران ان کے رابطوں اور ملاقاتوں پر بھی سوالات کیے جبکہ موبائل فونز پر گفتگو اور ڈریسنگ روم کی حساس معلومات لیک ہونے پر بھی پوچھ گچھ کی گئی۔

تحقیقات میں ٹیم کے اندر ممکنہ گروپ بندی، باہمی اختلافات، سیاسی کشمکش یا تنازعےسمیت مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس بات کا بھی تعین کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا کسی کھلاڑی پر سوشل میڈیا، ٹیم مینجمنٹ یا کسی دوسرے ذریعے سے دباؤ تو نہیں تھا جس کے باعث اس کی کارکردگی متاثر ہوئی۔

ذرائع کے مطابق ایک کھلاڑی کے کم اسکور پر آؤٹ ہونے اور دوسرے کھلاڑی کے انجری کے باعث میدان سے باہر ہونے کے پس منظر کو بھی تحقیقات کا حصہ بنایا گیا ہے تاہم ان واقعات کو کسی سازش، بدعنوانی یا دیگر غیر قانونی سرگرمی سے جوڑنے کے حوالے سے فی الحال کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ 

تحقیقات میں فون رابطوں، پیغامات، ملاقاتوں، کنڈکٹ اور مبینہ ڈریسنگ روم لیکس سے متعلق معلومات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ 

ذرائع کے مطابق امام الحق اور محمد رضوان نے مزید جوابات جمع کرانے کے لیے این سی سی آئی اے سے وقت مانگ لیا ہے۔ 

پی سی بی نے کرکٹرز کے موبائل فون متعلقہ اداروں کو بھیج دیے تھے، این سی سی آئی اے کھلاڑیوں کے موبائل فون سے حاصل معلومات کی بنیاد پر تفتیش کر رہا ہے۔

خیال رہے کہ محمد رضوان اور امام الحق ان کرکٹرز میں شامل ہیں جنہیں لارڈز ٹیسٹ کے بعد ٹیم سے ریلیز کر دیا گیا تھا۔



PNP

Comments are closed.