مبینہ بھارتی فنڈنگ سے چلنے والا ڈیجیٹل پروپیگنڈا نیٹ ورک بے نقاب
پاکستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ (R&AW) کی فنڈنگ سے چلنے والا منظم اور خطرناک ڈیجیٹل پروپیگنڈا نیٹ ورک بے نقاب سہولت کار کے تانے بانے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے مل گئے
متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور آن لائن سروسز کی آڑ میں دشمن کے ایجنڈے کو فروغ دینے والے ایک اہم سہولت کار کو گرفتار کر لیا ہے۔ منظر عام پر آنے والی تفصیلات کے مطابق گرفتار سہولت کار نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا ہے کہ وہ بھاری فیس کے عوض مخصوص ایجنڈے کے پھیلاؤ کیلئے خدمات فراہم کر رہا تھا، جبکہ اس پورے نیٹ ورک کو چلانے کے لیے بین الاقوامی ادائیگیوں کے بظاہر قانونی اور محفوظ راستوں جیسے Stripe، Payoneer اور برطانیہ میں قائم بینک اکاؤنٹس کا استعمال کیا جاتا تھا تاکہ غیر ملکی رقوم کو قانونی طریقے سے پاکستان منتقل کیا جا سکے۔
تحقیقات میں یہ سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے کہ اس نیٹ ورک کو مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے 36 لاکھ روپے سے زائد رقم کے آرڈرز موصول ہوئے، جن کے ذریعے ٹک ٹاک، ٹوئٹر، انسٹاگرام اور فیس بک پر من گھڑت اور گمراہ کن مواد کو وائرل کیا جاتا تھا۔ اس پروپیگنڈا مہم کا بنیادی مقصد پاکستان کی مسلح افواج اور عوام کے درمیان دراڑیں ڈالنا، ملک میں بداعتمادی پھیلا کر امن و امان کی صورتحال خراب کرنا اور خاص طور پر مقبوضہ کشمیر اور کالعدم ’عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی‘ سے متعلق منفی بیانیے کو پروموٹ کرنا تھا۔ تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ بظاہر پاکستانی ناموں سے بنائے گئے ان غیر فعال اکاؤنٹس کو کنٹرول کرنے اور اصلی لوکیشن چھپانے کے لیے VPNs اور آٹومیشن ٹولز کا سہارا لیا گیا، تاہم جدید ڈیجیٹل فورنسکس کے ذریعے ان ڈیوائسز کا ڈیجیٹل فٹ پرنٹ اور آئی پی ایڈریسز بھارت اور دیگر غیر ملکی مقامات سے منسلک پائے گئے، جس کے بعد سیکورٹی اداروں نے تمام ای میلز، آرڈرز اور مالیاتی لین دین کا ریکارڈ حاصل کر کے نیٹ ورک کے دیگر سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
ڈیجیٹل میڈیا ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ سوشل میڈیا پر نظر آنے والے لاکھوں ویوز یا لائکس کسی بھی خبر کی سچائی یا درستگی کا ثبوت نہیں ہوتے اور محض بار بار دہرائے جانا ایسی قبروں کے مستند ہونے کا معیار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے اس امر کی طرف بھی اشارہ کیا کہ دشمن ملک کی کی جانب سے پاکستانی نوجوانوں کی سوچ پر اثر انداز ہونے کے لیے مسلسل زہر افشانی کی جا رہی ہے اور اس قسم کی کارروائیاں ظاہر کرتی ہیں کہ پسِ پردہ کس سطح پر سازشیں تیار کی جاتی ہیں، لہٰذا ایسے ڈیجیٹل حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے عوامی شعور کو بیدار کرنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی مالیاتی لین دین پر سخت چیکس اینڈ بیلنس اور زیادہ مؤثر نگرانی رکھنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔
PNP
Comments are closed.