by Rao Imran Suleman
Rao Nama

میر رضا قتل کیس، کرائم سین سے ملنے والا خول گارڈ کے پستول سے میچ نہ ہوسکا

کراچی (پی این پی)کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کے قتل کیس کی تفتیش میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے،

کرائم سین سے ملنے والا کارتوس کا خول سیکیورٹی گارڈ کے پستول سے میچ نہیں ہوسکا جبکہ مقتول کی اسمارٹ واچ کے فرانزک تجزیے سے بھی تاحال کوئی قابلِ ذکر شواہد سامنے نہیں آئے۔تفتیشی حکام کے مطابق جائے وقوع سے ملنے والے خول اور سیکیورٹی گارڈ کے پستول سے فائر کیے گئے ٹیسٹ خولوں کے نشانات میں مطابقت نہیں پائی گئی۔ فرانزک جانچ کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ کرائم سین سے برآمد ہونے والا خول گارڈ کے زیر استعمال پستول سے فائر نہیں ہوا۔دوسری جانب میر رضا کی اسمارٹ واچ کا بھی فرانزک تجزیہ کیا گیا، تاہم حکام کے مطابق واچ سے بھی ایسا کوئی شواہد نہیں مل سکا جو قتل کی واردات کے حوالے سے تفتیش میں فیصلہ کن مدد فراہم کرسکے۔مقتول کے اہل خانہ کے وکیل جبران ناصر نے کہا ہے کہ پولیس نے واقعے کے 8 روز بعد جائے وقوع سے کارتوس کا خول ملنے کا دعویٰ کیا تھا۔ ان کے مطابق سیکیورٹی گارڈ کے پستول سے برآمد خول کو کرائم سین سے ملنے والے خول کے ساتھ فرانزک طور پر ملایا گیا، تاہم دونوں میں مطابقت نہیں پائی گئی۔جبران ناصر نے کہا کہ پولیس کو فرانزک رپورٹ مبینہ طور پر دو روز بعد ہی موصول ہوگئی تھی،

تاہم اس کی تفصیلات اہل خانہ اور ان کے وکلا سے چھپائی گئیں۔تفتیشی حکام کی جانب سے خول کے فرانزک نتائج اور اسمارٹ واچ سے شواہد نہ ملنے کے بعد قتل کے محرکات اور واردات میں استعمال ہونے والے ہتھیار سے متعلق تحقیقات مزید اہم ہوگئی ہیں۔پولیس کی جانب سے کیس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جارہا ہے جبکہ جائے وقوع سے ملنے والے دیگر شواہد، مشتبہ افراد اور واقعے سے متعلق دستیاب معلومات کی بنیاد پر تحقیقات جاری ہیں۔میر رضا کے اہل خانہ کی جانب سے کیس کی شفاف اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا جارہا ہے، جبکہ تفتیشی ادارے قتل کے اصل محرکات اور ملزم یا ملزمان تک پہنچنے کے لیے شواہد کا دوبارہ جائزہ لے رہے ہیں۔

PNP

Comments are closed.