by Rao Imran Suleman
Rao Nama

اسرائیلی بستیوں کے خلاف پابندیاں بہت پہلے لگنی چاہیے تھیں: ایمنسٹی

لندن: ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں سے متعلق برطانیہ کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہیں ایک اہم اقدام قرار دیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سینئر ڈائریکٹر ایریکا گویرا نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیلی بستیاں فلسطینی علاقوں پر قبضے، الحاق اور فلسطینی آبادی کو بے دخل کرنے کے عمل کو تقویت دے رہی ہیں۔
ان کے مطابق اسرائیلی بستیوں کی توسیع کے نتیجے میں فلسطینیوں کو ان کی زمینوں اور املاک سے محروم ہونا پڑ رہا ہے، اس لیے پابندیوں جیسے اقدامات بہت پہلے اٹھائے جانے چاہیے تھے۔
ایریکا گویرا نے کہا کہ برطانیہ کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو عالمی کوششوں کا اختتام نہیں بلکہ ایک آغاز سمجھا جانا چاہیے۔ برطانوی حکومت کو اپنے اعلان کے بعد عملی اقدامات بھی یقینی بنانا ہوں گے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ برطانیہ اسرائیل کو حاصل مبینہ استثنیٰ کے خاتمے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کرے، اسرائیل کے ساتھ فوجی تعاون روکنے اور عالمی نظام انصاف کی حمایت سمیت دیگر اقدامات پر بھی غور کیا جائے۔
واضح رہے کہ برطانیہ کے وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے مقبوضہ مغربی کنارے کی اسرائیلی بستیوں سے درآمد ہونے والی بعض اشیا پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بستیوں کی توسیع اور فلسطینیوں کے خلاف تشدد میں ملوث افراد اور اداروں کے خلاف مزید پابندیاں بھی عائد کی جائیں گی۔

PNP

Comments are closed.