by Rao Imran Suleman
Rao Nama

جیفری ایپسٹین کے نام ٹرمپ کا فحش خط منظرِ عام پر لانے والے صحافیوں کو ایوارڈ

واشنگٹن: امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل (WSJ) کے صحافیوں کو جیفری ایپسٹین کے نام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا فحش خط منظرِ عام پر لانے والی تحقیقاتی رپورٹ پر صحافتی اعزاز سے نواز دیا گیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے سالانہ عشائیے کے موقع پر وال اسٹریٹ جرنل کی تحقیقاتی ٹیم کو “کیتھرین گراہم ایوارڈ برائے جرات اور احتساب” دیا گیا۔ یہ ایوارڈ اس تحقیقاتی رپورٹ پر دیا گیا جس میں جیفری ایپسٹین کی 50ویں سالگرہ کے لیے تیار کی گئی یادگاری کتاب میں شامل ٹرمپ کے فحش خط اور خاکے کا ذکر کیا گیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق تقریب کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی موجود تھے۔ ایوارڈ وصول کرنے والے صحافی جب اسٹیج پر آئے تو ٹرمپ نے مسکراتے ہوئے ان سے مصافحہ کیا، جبکہ بعد ازاں اپنے خطاب میں طنزیہ انداز میں کہا کہ “یہ میرے لیے آسان شام نہیں تھی، خاص طور پر اتنے سارے ایوارڈز کے بعد۔”

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ خط جیفری ایپسٹین کی 50ویں سالگرہ کی یادگاری کتاب کے لیے لکھا گیا تھا، جسے ایپسٹین کی سابق ساتھی گھسلین میکسویل نے مرتب کیا تھا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ خط کے ساتھ ایک خاکہ بھی شامل تھا، جس کے باعث یہ معاملہ امریکی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں شدید بحث کا موضوع بن گیا۔

رپورٹ منظرِ عام پر آنے کے بعد ڈیموکریٹک اور ریپبلکن جماعتوں کے متعدد ارکان نے ایپسٹین کیس سے متعلق مزید دستاویزات جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ بعد ازاں امریکی انتظامیہ نے اس کیس سے متعلق کئی ریکارڈز جاری کیے، جن میں اس رپورٹ کا حوالہ بھی شامل تھا۔

دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اخبار کے خلاف 10 ارب ڈالر ہرجانے کا ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کیا۔ تاہم عدالتی کارروائی کے دوران یہ مقدمہ مسترد کر دیا گیا۔

 

PNP

Comments are closed.