سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ نے29 ملازمین کو برطرف کر دیا ، متاثرہ ملازمین کا شدید تحفظات کا اظہار
کراچی( پی این پی )سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ (SSWMB) کی جانب سے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے29 ملازمین کو فارغ کیے جانے کے فیصلے پر متاثرہ ملازمین نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر منصفانہ قرار دیا ہے اور کراچی کے میئر و چیئرمین سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ بیرسٹر مرتضیٰ وہاب سے فیصلے پر نظرثانی کی اپیل کی ہے۔
متاثرہ ملازمین کا کہنا ہے کہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے کارکن ادارے کے سب سے کمزور اور معاشی طور پر متاثر ہونے والے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق ملازمت ختم ہونے سے نہ صرف ان کی آمدنی کا واحد ذریعہ بند ہو جائے گا بلکہ ان کے اہل خانہ کی روزمرہ ضروریات، بچوں کی تعلیم اور گھریلو اخراجات بھی شدید متاثر ہوں گے۔
سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کی جانب سے 27 جولائی 2026 کو جاری کیے گئے ایک سرکاری حکم نامے کے مطابق 29 یومیہ اجرت ملازمین کی خدمات ختم کر دی گئی ہیں اور انہیں 31 جولائی 2026 کو دفتری اوقات کے اختتام تک اپنی ذمہ داریاں انجام دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال اور یومیہ اجرت ملازمین کا جائزہ لینے کے لیے قائم کردہ کمیٹی کی سفارشات اور مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد کیا گیا۔
تاہم متاثرہ ملازمین نے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ برطرفیوں کی بنیاد کارکردگی نہیں بلکہ سابق منیجنگ ڈائریکٹر طارق علی نظامانی کی انتظامیہ سے وابستگی کو بنایا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے انجام دیں، ان کے خلاف کبھی خراب کارکردگی کی کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی، اس کے باوجود انہیں ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔
ملازمین نے سوال اٹھایا کہ اگر ان کی کارکردگی تسلی بخش تھی تو پھر صرف انہی افراد کو برطرف کیوں کیا گیا، جبکہ ان کا مؤقف ہے کہ انتخاب کا عمل شفاف اور غیر جانبدار نہیں تھا۔
دوسری جانب محنت کشوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ سرکاری اداروں میں ملازمت سے متعلق فیصلے شفاف، معروضی معیار اور کارکردگی کی بنیاد پر ہونے چاہییں، نہ کہ سابق انتظامیہ سے وابستگی کے تاثر پر۔ ایسے فیصلوں میں مساوی سلوک اور منصفانہ طریقہ کار اداروں کی ساکھ اور ملازمین کے اعتماد کے لیے ناگزیر ہیں۔
متاثرہ کارکنوں نے چیئرمین سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ بیرسٹر مرتضیٰ وہاب سے مطالبہ کیا ہے کہ کمیٹی کی سفارشات اور برطرفیوں کے تمام حالات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے اور اگر کسی ملازم کو بلاجواز اور غیر منصفانہ طور پر فارغ کیا گیا ہو تو اسے فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔
PNP
Comments are closed.