اتفاق ہے نقوی صاحب پارلیمنٹ و کابینہ اجلاس کبھی کبھار اٹینڈ کرتے ہیں، خواجہ آصف
وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ نقوی صاحب اس نظام کے انتہائی طاقتور عہدوں پر ساڑھے تین سال سے فائز ہیں، چاہتے تو نظام کی تبدیلی کی بات یا پیش رفت اس عرصے میں کرسکتے تھے، چلیں دیر آید درست آید۔
اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ محسن نقوی نے سسٹم کی کسمپرسی پر اپنے خیالات کا اظہار کیا، ذاتی طور پر ان خیالات سے کم و بیش اتفاق کرتا ہوں، نقوی صاحب تو ماشاء اللہ خود ایک پاور ہاؤس ہیں، سسٹم مضبوط کرنا اور بنیادی تبدیلی لانی ہے تو اس کا فورم پارلیمنٹ ہے جس کے وہ رکن ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ اس معاملے کو کابینہ میں بھی زیر بحث لایا جا سکتا ہے، اس سے یہ ادارے اور سسٹم مضبوط ہوگا اور تبدیلی آئینی عمل سے گزرے گی، سسٹم کے ارتقائی عمل کا پراسیس دہائیوں سے گروہی و ذاتی مفادات کے تابع ہے، اسے آزاد کرنے کی ضرورت ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ اتفاق ہے نقوی صاحب پارلیمنٹ اور کابینہ کا اجلاس کبھی کبھار اٹینڈ کرتے ہیں، ان اداروں کو غیر متعلق کرکے تاجروں کو بلا کر اتنی بڑی بات کرنا میری دانست میں وہ اثر نہیں رکھتی۔
انہوں نے کہا کہ کل ڈی جی آئی ایس پی آر نے نیشنل ایکشن پلان کے 13 نکات کا ذکر کیا، ایک پوائنٹ پر عمل جو افواج کے ذمہ تھا اس پر عملدرآمد جانوں کی قربانیوں سے ہو رہا ہے، باقی 12 پوائنٹ وزارت داخلہ کی ذمہ داری ہے جن پر عملدرآمد نہیں ہوا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ نقوی صاحب سسٹم کی تبدیلی کا آغاز نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد سے کریں، سسٹم میں تبدیلی کا آغاز اپنی وزارت سے کریں، صرف تاجر برادری ہی نہیں پوری قوم آپ کے ساتھ ہے۔
PNP
Comments are closed.