by Rao Imran Suleman
Rao Nama

مقدس مقامات کے تحفظ کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے: ایران

اسلامی مقدس مقامات پر کسی بھی قسم کی جارحیت، بالخصوص مکہ، مدینہ اور مسجد اقصیٰ پر حملہ، یا ان مقامات کے زائرین اور مکینوں کو خطرے میں ڈالنا، قابلِ مذمت ہے،اسماعیل بقائی

تہران: ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ مقدس مقامات کے تحفظ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے اور اسے اختلافات بھڑکانے یا علاقائی کشیدگی میں اضافے کے آلے کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں اسماعیل بقائی نے لکھا کہ اسلامی مقدس مقامات پر کسی بھی قسم کی جارحیت، بالخصوص مکہ، مدینہ اور مسجد اقصیٰ پر حملہ، یا ان مقامات کے زائرین اور مکینوں کو خطرے میں ڈالنا، قابلِ مذمت ہے۔

واضح رہے کہ یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے لیے قائم عسکری اتحاد نے گذشتہ روز دعویٰ کیا تھا کہ حوثیوں کی جانب سے داغا گیا ڈرون مکہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے روک کر تباہ کر دیا گیا۔

تاہم حوثیوں کی جانب سے مکہ پر ڈرون حملہ کرنے کے الزام کی تردید کی گئی تھی۔

اسماعیل بقائی کا کہنا تھا: ’صرف یہ دعویٰ کہ مکہ کی جانب جانے والے ایک ڈرون کو روکا گیا، کسی مخصوص فریق پر الزام عائد کرنے کے لیے کافی بنیاد نہیں بن سکتا۔‘

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا: ’یہ بھی فراموش نہیں کیا جانا چاہیے کہ ہمارے خطے میں، خصوصاً حالیہ مہینوں کے دوران، متعدد ’فالس فلیگ‘ آپریشن کیے گئے جن کا مقصد اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے خطے میں کیے گئے جرائم سے عوامی توجہ ہٹانا اور اور اسلامی ممالک کے درمیان تفرقہ پیدا کرنا تھا۔‘

فالس فلیگ ایک ایسی کارروائی کو کہا جاتا ہے جو کی تو کسی اور نے ہو، لیکن اس کی ذمہ داری کسی اور پر عائد کر دی گئی ہو۔

PNP

Comments are closed.