by Rao Imran Suleman
Rao Nama

بیٹے پر تشدد کیا گیا، اس کی شناخت کپڑوں سے کی، والد میر رضا علی

نوجوان تاجر میر رضا علی کے والد نے کہا کہ جس دن سے بیٹے کی لاش ملی ہے اس دن سے کہہ رہا ہوں کہ اس کو قتل کیا گیا ہے۔ 

جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے میر حسین علی نے کہا کہ میرا بیٹا پڑھا لکھا تھا وہ خودکشی نہیں کرسکتا۔ 

میر رضا علی کے والد نے کہا کہ نرسری والے نے بتایا کہ میرے بیٹے کی لاش 28 جولائی کو وہاں پر نہیں تھی اس نے 29 جولائی کو دیکھی۔ 

انھوں نے کہا کہ میرے بیٹے پر تشدد کیا گیا تھا ہم نے اس کی شناخت کپڑوں سے کی ہے۔ میر رضا علی کے والد نے کہا کہ میرے بیٹے کے ہاتھ جلے ہوئے تھے اس کو بہیمانہ طور پر قتل کیا گیا۔

انکا کہنا تھا کہ ہم انصاف چاہتے ہیں اگر بیٹے کے دوبارہ پوسٹ مارٹم کا کہا گیا تو اپنی بیوی اور بیٹی سے اس پر بات کروں گا۔ 

انھوں نے کہا کہ اگر بیٹے کو خودکشی کرنی ہوتی تو وہ دکان، گاڑی یا گھر پر بھی کرسکتا تھا۔ کیا میرا بیٹا تین، ساڑھے تین کروڑ روپے کےلیےخود کو گولی مارے گا، کبھی نہیں

والد میر رضا علی نے کہا کہ میرا بیٹا پہلے کبھی دکان سے پستول لے کر نہیں آیا، اگر رضا نے سب چیزیں ڈیلیٹ کردی تھیں تو وہ اپنا موبائل لے کر کیوں گیا، وہ گھر پر رکھ کر جاتا، بیٹا رات کو تین، ساڑھے تین بجے دکان سے واپس آتا تھا گھڑی اور دیگر چیزیں گھر پر رکھ کر باہر جاتا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ بیٹے کی تلاش میں اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ساتھ علاقے میں موجود گیسٹ ہاؤس گیا، باہر موجود شخص بیٹے کی تصویر دیکھ کر بھاگ گیا، گیسٹ ہاؤس سے دو افراد نکلے ان کو بھی رضا کی تصویر دکھائی وہ بھی دیکھ کر بھاگ گئے۔



PNP

Comments are closed.