by Rao Imran Suleman
Rao Nama

نیپال میں ہندو مسلم فسادات، مسلمانوں کے گھر جلا دیے گئے ، کرفیو نافذ

کٹھمنڈو: جنوبی نیپال کے سرحد سے ملحقہ اضلاع میں ہندو اور مسلم فسادات پھوٹ پڑے، متعدد علاقوں میں پرتشدد ہجوم کی جانب سے مسلم آبادی کے گھروں، دکانوں اور گاڑیوں کو آگ لگانے اور توڑ پھوڑ کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز نے حالات پر قابو پانے کے لیے غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

فسادات کا آغاز ضلع سنساری کے علاقے دیوان گنج سے ہوا، جہاں ایک مذہبی جلوس کے دوران لاؤڈ اسپیکر اور مذہبی پرچموں کے استعمال پر فریقین کے درمیان تلخ کلامی اور سنگ باری ہوئی۔

مظاہرین اور پرتشدد ہجوم نے رہائشی علاقوں کا رخ کیا، جہاں متعدد مکانات، دکانوں اور گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔ کئی خاندان اپنے گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے پر مجبور ہو گئے۔

پولیس اور پرتشدد عناصر کے درمیان تصادم میں اب تک کم از کم 3 افراد کی ہلاکت اور درجنوں کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔

صورت حال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے پولیس اور نیپال آرمی نے متاثرہ اضلاع کا گشت سنبھال لیا ہے۔شرپسند عناصر کی جانب سے املاک کو نقصان پہنچانے اور گھروں کو نذرِ آتش کرنے پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپلائی کی جا رہی ہے۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں اور افواہیں پھیلانے والوں کو موقع پر ہی گرفتار کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔

نیپال کی حکومت اور وزیراعظم نے عوام سے پرامن رہنے اور مذہبی رواداری برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ متاثرہ اضلاع میں کرفیو کی سخت پابندی اور سوشل میڈیا کی نگرانی جاری ہے تاکہ کسی بھی قسم کی شرانگیزی کا بروقت سدباب کیا جا سکے۔

PNP

Comments are closed.