by Rao Imran Suleman
Rao Nama

امریکی دباؤ کے باوجود ایران نے پاکستان کا تجارتی راستہ چن لیا

اسلام آباد: ایران نے کہا ہے کہ وہ امریکی بحری ناکہ بندی اور تجارتی دباؤ کے باوجود اپنی برآمدات کو جاری رکھنے کے لیے پاکستان کی کراچی اور گوادر بندرگاہوں کو اہم تجارتی راستوں کے طور پر استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ایک سینئر ایرانی اہلکار نے منگل کو کہا کہ ایران اپنی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کے باعث تجارت کو جاری رکھنے کے لیے پاکستان کی دو اہم بندرگاہوں، کراچی اور گوادر، کو استعمال کر رہا ہے تاکہ ایرانی مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک پہنچایا جا سکے۔

ایران کی ٹریڈ پروموشن آرگنائزیشن کے سربراہ محمد علی دہقان دہنوی نے اسلام آباد میں دوطرفہ تجارتی مذاکرات کے موقع پر کہا کہ کراچی اور گوادر ایرانی مصنوعات کو تیسرے ممالک تک دوبارہ برآمد کرنے کے لیے مؤثر مراکز بن سکتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان ایران کو ضروری اشیائے ضروریہ اور صنعتی خام مال کی فراہمی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

یہ بیان ایرانی صنعت، کانوں اور تجارت کے وزیر محمد عتابک کے دورۂ پاکستان کے دوران سامنے آیا، جہاں دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور سرحدی تعاون پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔

پاکستان اور ایران نے مشترکہ طور پر دوطرفہ تجارتی حجم کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے، آزاد تجارتی معاہدے (FTA) پر پیش رفت کرنے، کسٹمز کے نظام کو بہتر بنانے، سرحدی لاجسٹکس میں سہولت پیدا کرنے اور کارگو کی نقل و حرکت میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

ادھر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکا کی جانب سے ایران پر عائد بحری پابندیوں اور آبنائے ہرمز میں محدود آمدورفت کے باعث ایران متبادل تجارتی راستوں کی تلاش میں ہے، جس میں پاکستان کی بندرگاہوں کو اہم حیثیت حاصل ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب، امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مزید اقتصادی دباؤ بڑھانے کے مختلف آپشنز پر غور کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، تاہم ان رپورٹس پر متعلقہ حکومتوں کی جانب سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

پاکستان اور ایران کے درمیان حالیہ تجارتی مذاکرات کو خطے میں اقتصادی تعاون کے فروغ، سرحدی تجارت کے استحکام اور دونوں ممالک کے درمیان معاشی روابط کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

PNP

Comments are closed.