by Rao Imran Suleman
Rao Nama

کوہاٹ حملہ افغانستان میں موجود خوارج نے کیا،وزارت اطلاعات

اسلام آباد: وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات نے کوہاٹ میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملے میں افغانستان میں جڑیں رکھنے والے ’خوارج‘ ملوث ہیں۔

وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کوہاٹ میں نماز جمعہ کے دوران شہریوں اور پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا، جس کی شدید مذمت کی جاتی ہے۔ وزارت کے مطابق دہشت گردی کا نہ کوئی مذہب ہے اور نہ ہی اس کا کوئی جواز۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کو فتنہ الخوارج اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی جانب سے افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کیے جانے پر شدید تحفظات ہیں۔

وزارت اطلاعات کے مطابق افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں، بھرتی اور معاونت کے نیٹ ورکس پاکستان کی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہیں، اس لیے افغان طالبان حکومت کو ان عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کرنا ہوگی۔

وفاقی وزارت نے افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے پاکستان کو سنگین نتائج کی دھمکی کے بیان کو بھی قابل مذمت قرار دیا۔ وزارت کے مطابق افغان طالبان کو ذمہ داری سے گریز اور پاکستان پر الزامات عائد کرنے کے بجائے اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ افغان عبوری حکومت کو دوحہ معاہدے کے تحت اپنی انسداد دہشت گردی کی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔ وزارت اطلاعات کے مطابق افغان وزارت خارجہ کی جانب سے کوہاٹ حملے کی مذمت قابلِ ذکر ہے، تاہم صرف زبانی ہمدردی کافی نہیں، بلکہ دہشت گردی کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کی ضرورت ہے۔

وزارت اطلاعات نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے شہریوں کی جان و مال، سرحدوں اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قانون کے تحت تمام ضروری اقدامات کرے گا۔

وفاقی وزارت کے مطابق پاکستان دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مکمل عزم اور صلاحیت رکھتا ہے۔ بیان میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ افغان طالبان پر دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر اور فیصلہ کن کارروائی کے لیے دباؤ ڈالے۔

PNP

Comments are closed.