by Rao Imran Suleman
Rao Nama

سفارتخانہ پاکستان انقرہ میں یومِ استحصالِ کشمیر قومی جذبے سے منایا گیا

ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں سفارتخانہ پاکستان کے زیرِ اہتمام یومِ استحصالِ کشمیر بھرپور قومی جذبے اور وقار کے ساتھ منایا گیا۔ 

اس موقع پر 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے بھارتی غیرقانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے اور یکطرفہ اقدامات کے سات برس مکمل ہونے پر کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی کے ساتھ پاکستان کی غیرمتزلزل یکجہتی کا اعادہ کیا گیا۔

تقریب میں ترکیہ کی ممتاز سیاسی، سفارتی اور علمی شخصیات، ارکانِ پارلیمنٹ، مختلف تھنک ٹینکس کے ماہرین، سفارتی برادری، ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور پاکستانی و ترک برادری کے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد صدرِ پاکستان آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کے خصوصی پیغامات حاضرین کو سنائے گئے، جن میں کشمیری عوام کی منصفانہ جدوجہد کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرے۔

جیو پولیٹیکل فارسائٹ انسٹیٹیوٹ کے چیئرمین میجر جنرل (ر) گورائے الپار نے اپنے خطاب میں جموں و کشمیر کی جغرافیائی اور تزویراتی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے عوام تاریخی، تہذیبی اور برادرانہ رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ 

انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات، آئینی ڈھانچے میں من مانی تبدیلیاں اور مشترکہ آبی وسائل کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی کوششیں پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہیں۔

اسلامی تعاون تنظیم کے ذیلی ادارے سیسرک (SESRIC) کی ڈائریکٹر جنرل اور ترکیہ کی سابق وزیر زہرہ زمرد سلجوق نے اپنے خطاب میں مسئلہ جموں و کشمیر پر اسلامی تعاون تنظیم کے مستقل اور اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اس تنازع کا منصفانہ اور پائیدار حل صرف اسی صورت ممکن ہے جب کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق حقِ خودارادیت استعمال کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔ 

انہوں نے مقبوضہ کشمیر اور فلسطین میں جاری طویل قبضے کے تناظر میں مماثلت کی نشاندہی کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ انصاف پر مبنی اور دیرپا حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔

ترک پارلیمنٹ کے رکن اور سعادت پارٹی کے نائب چیئرمین مصطفیٰ قایا نے بھارتی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں “آبادیاتی دہشت گردی” قرار دیا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے، مقامی باشندوں کو اراضی کے حقوق سے محروم کرنے اور مغربی کنارے میں اختیار کیے گئے قبضے کے ماڈل کو کشمیر میں نافذ کرنے کی کوششیں کشمیری عوام کے حقِ آزادی کو ہرگز دبا نہیں سکتیں۔

تقریب سے اختتامی خطاب کرتے ہوئے ترکیہ میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر یوسف جنید نے حکومت اور ترکیہ کے عوام کی مسلسل اور غیرمتزلزل حمایت پر دلی تشکر کا اظہار کیا اور کہا کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں منظم انداز میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے تحت غیرمقامی افراد کو تقریباً چالیس لاکھ متنازع ڈومیسائل سرٹیفکیٹس جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ آزاد ذرائع ابلاغ پر سخت پابندیاں اور کشمیری عوام کے خلاف ریاستی جبر بدستور جاری ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کے یکطرفہ آئینی اور غیر قانونی اقدامات جموں و کشمیر کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ 

سفیر پاکستان نے اس امر پر زور دیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن، سلامتی اور استحکام کا راستہ مسئلہ جموں و کشمیر کے منصفانہ حل سے ہو کر گزرتا ہے اور اس مقصد کے لیے کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ، شفاف اور غیرجانبدارانہ استصوابِ رائے کے ذریعے اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جانا ناگزیر ہے۔

تقریب کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جموں و کشمیر کے عوام کی حقِ خودارادیت پر مبنی جدوجہد کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت اس وقت تک جاری رہے گی جب تک انہیں اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع نہیں مل جاتا۔



PNP

Comments are closed.