آبنائے ہرمز فوری نہیں کھلے گی،ایران نے امریکا پر شرط عائد کر دی
تہران: ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے سے وابستہ ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی سے متعلق عمان کے ساتھ جاری مذاکرات دو طرفہ نوعیت کے ہیں اور ان کا امریکا کے ساتھ کسی معاہدے یا مذاکرات سے براہِ راست تعلق نہیں۔
ایرانی ذرائع کے مطابق ایک باخبر عہدیدار نے کہا ہے کہ عمان کے ساتھ ممکنہ اتفاق رائے کا یہ مطلب نہیں کہ آبنائے ہرمز فوری طور پر بحری آمدورفت کے لیے کھول دی جائے گی۔
عہدیدار کے مطابق اگر امریکا کی جانب سے ایران کے بقول خلاف ورزیاں جاری رہیں تو عمان کے ساتھ معاہدہ ہونے کے باوجود آبنائے ہرمز کی بحالی میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اہم بحری گزرگاہ پر آمدورفت کی مکمل بحالی کا انحصار امریکا کے رویے میں تبدیلی اور زیرِ اعتراض معاملات کے حل پر ہوگا۔
ایرانی خبر رساں اداروں، جن میں تسنیم نیوز ایجنسی بھی شامل ہے، نے سپاہ نیوز کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ عمان کے ساتھ مذاکرات میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ امریکی مداخلت اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات اور دھمکیاں قرار دی جا رہی ہیں۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز سے متعلق مختلف سفارتی رابطوں اور ممکنہ عبوری انتظامات کی خبریں سامنے آئی ہیں، تاہم ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حتمی فیصلے خطے کی مجموعی صورتحال اور مذاکرات میں پیش رفت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔
PNP
Comments are closed.