by Rao Imran Suleman
Rao Nama

معیشت پر دعوے نہیں اعداد و شمار دیکھیں عمران اسماعیل کا حکومت پر تنقیدی وار

کراچی (پی این پی) سابق گورنر سندھ اور رہنما پاکستان تحریک انصاف عمران اسماعیل کا کہنا ہے عمران خان کی حکومت (2018 تا 2022) نے اپریل 2022 کے بعد کے دور کے مقابلے میں اہم معاشی شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھائی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ’’ایکس‘‘ پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود پیٹرول کی قیمتیں سبسڈی کے ذریعے قابو میں رکھی گئیں اور دورِ حکومت کے اختتام تک قیمتیں تقریباً 150 سے 160 روپے فی لیٹر کے درمیان رہیں، جبکہ بعد ازاں پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔کورونا کے بعد معاشی بحالی کے دوران مالی سال 2021 اور 2022 میں ملکی معیشت نے تقریباً 5.8 سے 6.2 فیصد تک شرح نمو حاصل کی، جبکہ بعد کے سال میں معاشی سرگرمیوں میں کمی دیکھی گئی۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی دور میں برآمدات میں مسلسل اضافہ ہوا، ٹیکسٹائل شعبے کے لیے مراعات اور مسابقتی توانائی نرخوں سے برآمدی سرگرمیوں کو فروغ ملا۔ تعمیراتی پیکیج 2020 کے نتیجے میں ہاؤسنگ منصوبوں اور متعلقہ صنعتوں میں روزگار کے مواقع بڑھے۔ترسیلات زر بھی ریکارڈ سطح تک پہنچیں اور روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ سمیت دیگر اقدامات نے بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے رقوم کی ترسیل کو فروغ دیا۔احساس پروگرام کے ذریعے مستحق طبقات کو ہدفی ریلیف فراہم کیا گیا، جبکہ اپریل 2022 کے بعد مہنگائی میں اضافہ، معاشی سست روی اور غربت کے اشاریوں میں بہتری کے بجائے بگاڑ دیکھا گیا۔

عمران اسماعیل نے کہا کہ معاشی معاملات کا جائزہ بیانات کے بجائے اعداد و شمار کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔



PNP

Comments are closed.