by Rao Imran Suleman
Rao Nama

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ایک ڈالر سے زائد کم

عالمی مارکیٹ میں جمعرات کو خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ عالمی سطح پر تیل کی طلب میں کمی کی توقعات اور امریکا میں خام تیل کے ذخائر میں غیر متوقع اضافے نے قیمتوں پر دباؤ بڑھا دیا، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کے باعث قیمتوں میں کمی محدود رہی۔

بین الاقوامی بینچ مارک برینٹ کروڈ کی قیمت 1.29 ڈالر یعنی تقریباً 1.5 فیصد کم ہوکر 87.69 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت 1.30 ڈالر یعنی 1.6 فیصد کمی کے بعد 82 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔

اوپیک نے اپنی تازہ ماہانہ رپورٹ میں 2026 کے دوران عالمی سطح پر تیل کی طلب میں اضافے کا تخمینہ کم کرکے یومیہ 580 ہزار بیرل کردیا ہے۔ دوسری جانب انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے رواں سال عالمی تیل کی کھپت میں یومیہ 1.6 ملین بیرل کمی کا امکان ظاہر کیا ہے۔

امریکا میں بھی خام تیل کے ذخائر میں غیر معمولی اضافہ مارکیٹ پر اثرانداز ہوا۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق 7 اگست کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران تجارتی خام تیل کے ذخائر میں 17.4 ملین بیرل کا اضافہ ہوا، جس کے بعد مجموعی ذخائر 424.4 ملین بیرل تک پہنچ گئے۔

تجزیہ کاروں نے ذخائر میں اضافے کے بجائے تقریباً 1.4 ملین بیرل کمی کی توقع ظاہر کی تھی، جس کے برعکس اعداد و شمار نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ ڈالا۔

دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے اور عبوری معاہدے کی بحالی کے لیے جاری مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے سے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے اہم بحری راستوں، خصوصاً آبنائے ہرمز اور باب المندب میں سکیورٹی خدشات نے بھی عالمی توانائی سپلائی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان اہم بحری راستوں پر کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو خام تیل اور گیس کی عالمی ترسیل متاثر ہوسکتی ہے، جس سے مستقبل میں قیمتوں پر دوبارہ اضافے کا دباؤ پیدا ہونے کا امکان موجود ہے۔

PNP

Comments are closed.