by Rao Imran Suleman
Rao Nama

امریکہ سے کوئی رابطہ نہیں ہوا: پاسدارانِ انقلاب کی تردید

تہران: پاسدارانِ انقلاب فورس نے ایران اور امریکہ کے درمیان کسی بھی قسم کے رابطے کی خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔

سپاہ کے ترجمان حسین محبی نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے، جس میں انھوں نے امریکہ اور پاسداران انقلاب فورس کے درمیان خفیہ رابطوں کی میڈیا رپورٹس کی تصدیق کی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ’ٹرمپ کا یہ دعویٰ جھوٹ ہے اور محض ایسی خیالی باتیں ہیں جو جنگ میں ناکامی اور بے بسی کے باعث پیدا ہونے والے وہم اور ڈراؤنے خوابوں کا نتیجہ ہیں۔‘

بریگیڈیئر محبی نے خبر رساں ادارے تسنیم سے گفتگو میں کہا ’ٹرمپ ان بیانات کے ذریعے دنیا میں تیل اور توانائی کی قیمتوں کو عارضی طور پر قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ان کے پاس ایک ہی حقیقی راستہ ہے، اور وہ اپنی شکست تسلیم کرنا اور ایران کی مقرر کردہ شرائط کو ماننا ہے۔

دوسری جانب امریکی میڈیا میں امریکہ اور پاسداران انقلاب کے درمیان خفیہ رابطوں کی خبروں کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے ایسے رابطے ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔

امریکی صدر نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے سپاہِ پاسداران کے بارے میں کہا: ’وہ اچھے پوکر کھلاڑی ہیں، لیکن کمزور پڑ رہے ہیں۔‘

اس سے پہلے امریکی خبر رساں ویب سائٹ اکسیوس نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے سے تقریباً ایک ماہ پہلے، عراق کے کردستان ریجن کے صدر نچیروان بارزانی کی ثالثی میں امریکہ نے سپاہِ پاسداران سے رابطہ کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق امریکہ یہ جاننا چاہتا تھا کہ آیا پاسدارانِ انقلاب فورس اور اس کی قیادت، محمد باقر قالیباف اور عباس عراقچی کی سربراہی میں مذاکرات کرنے والے ایرانی وفد کی حمایت کر رہی ہے یا نہیں۔ امریکہ یہ بھی معلوم کرنا چاہتا تھا کہ مذاکرات کے حوالے سے سپاہِ پاسداران کی کوئی الگ رائے یا مطالبات تو نہیں ہیں۔

اکسیوس کے مطابق نچیروان بارزانی کی کوششوں سے آخرکار سپاہ کا ایک عہدیدار ایک خفیہ مواصلاتی نظام والے فون کے ساتھ اربیل میں بارزانی کے دفتر پہنچا۔ بعد ازاں کردستان ریجن کے صدر نے اسی فون کے ذریعے سپاہ کے کمانڈر احمد وحیدی سے بات کی۔

رپورٹ کے مطابق احمد وحیدی نے اس گفتگو میں کہا کہ وہ ایرانی مذاکرات کاروں کی ’مکمل‘ حمایت کرتے ہیں۔

PNP

Comments are closed.