کراچی(پی این پی) پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجا کا کہنا ہے ہم کیوں سامنے آئے ہیں؟ کیونکہ ہم اسے ضمیر کا تقاضا سمجھتے ہیں، اللّٰہ نے ہم پر مہربانیاں کی ہیں، وسائل، آواز اور شاید معاشرے میں ایک مقام دیا ہے، ہم نے اس آواز کو قوم کی آواز بنانا ہے۔ میں پوری قوم سے بھی کہتا ہوں کہ نکلو، اپنی آواز بلند کرو۔ ان شاءاللّٰہ 27 ستمبر ایک عہد ساز دِن ہوگا۔ پوری قوم نکل کر پُرامن طریقے سے اس نظام سے بیزاری کا اظہار کریگی۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ایک بار پھر کراچی آ رہے ہیں۔ ہم نے آگے بڑھ کر اس کامیابی کو حاصل کرنا ہے، جو ہمارا مقدر ہے۔ ہم کسی ڈنڈے، جیل یا گولی سے ڈرنے والے نہیں، کیونکہ اب بہت ہوچکا۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئےانہوں نےکہا اس ملک میں غریب کے ساتھ جو ظلم جو زیادتی ہوئی اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ غریب کی آواز کو دبا دیا گیا ہے، غریب کی آواز کیا ہے وہ اس کا ووٹ ہے ۔ 8 فروری 2024 کو اس ملک کے کروڑوں غریبوں سفید پوشوں نے عمران خان کو ووٹ دیا اپنے مستقبل کو سنوارنے کے لیے انہوں نے عمران خان کو پاکستان تحریک انصاف کو چُنا لیکن ماضی کی طرح ایک بار پھر عوام کی آواز کو کُچلا گیا اور کہا گیا نہیں جن پر عوام کو اعتبار ہے ان پر ہم کو اعتبار نہیں ہے۔ پورے ملک کی طرح کراچی میں بھی مینڈیٹ لوٹا گیا ہمارے پاس ثبوت ہیں کراچی کی بائیس میں سے اکیس سیٹیں عمران خان نے جیتیں پاکستان کی عوام نے عمران خان کے نمائندوں کو اپنا نمائندہ چُنا یہی حال لاہور میں تھا چودہ میں سے تیرہ سیٹیں ہم نے جیتیں،پھر جو ہوا پوری دنیا جانتی ہے۔
سلمان اکرم راجا نے مزید کہا پورے ملک میں اس وقت دو نظام ہم پر مسلط ہیں ایک نظام امیر کا نظام دوسرا غریب کا نظام ہے امیر کے بچے ان سکولوں میں جاتے ہیں جہاں غریب کا بچہ نہیں جا سکتا، امیروں کے بچے وہاں پیدا ہوتے ہیں جہاں غریب کا بچہ نہیں پیدا ہوتا امیروں کے بچے ان ہسپتالوں میں جاتے ہیں جہاں غریب کا بچہ نہیں جاسکتا اس ملک پر اس وقت ایک آفت ہے، غریب کے لیے زندگی تنگ کردی گئی ہے۔ 1980 تک سرکاری سکول اچھی تعلیم دے رہے تھے اس کے بعد ایک فوجی حکمران نے فیصلہ کیا کہ امیر کے بچے پرائیویٹ انگلش میڈیم سکولز میں پڑھیں گے آج غریب اور سفید پوش لوگوں کے بچے ان انگلش میڈیم کے پڑھے امیر کے بچوں کے برابر نہیں بیٹھ سکتے۔ پاکستان میں ایک ایسی تفریق پیدا کردی گئی جو دنیا کے کسی ملک میں نہیں ہے۔
PNP
Comments are closed.