غیرملکی طلبہ کیلئے برطانوی یونیورسٹیوں کی فیس میں بڑی کمی
برطانیہ کی متعدد یونیورسٹیاں بین الاقوامی طلبہ کی تعداد میں کمی کے باعث انہیں اپنی جانب راغب کرنے کے لیے پوسٹ گریجویٹ پروگرامز کی ٹیوشن فیس میں نمایاں کمی کر رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق بعض برطانوی جامعات بین الاقوامی طلبہ کو فیس میں ہزاروں پاؤنڈز کی براہِ راست رعایت دے رہی ہیں، جس کا مقصد بیرون ملک سے طلبہ کی نئی بھرتی میں کمی کے اثرات کو کم کرنا ہے۔
کنسلٹنسی اسکوائرڈ انسائٹس کی جانب سے 90 اداروں کے جائزے کے مطابق کم از کم 22 یونیورسٹیاں پوسٹ گریجویٹ طلبہ کو خودکار طور پر ٹیوشن فیس میں رعایت فراہم کر رہی ہیں۔ ان رعایتوں کے لیے طلبہ کو الگ سے درخواست دینے یا کسی مقابلے میں حصہ لینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف ایبرڈین بین الاقوامی طلبہ کو ٹیوشن فیس میں 8 ہزار پاؤنڈ تک کی رعایت دے رہی ہے، جو جائزے میں سامنے آنے والی بڑی رعایتوں میں شامل ہے۔
یونیورسٹی آف کینٹ چین، جنوبی کوریا اور ویتنام سمیت 14 ممالک اور خطوں کے طلبہ کو ماسٹرز پروگرامز کے لیے 5 ہزار پاؤنڈ تک فیس میں کمی کی پیشکش کر رہی ہے، جبکہ یونیورسٹی آف ناٹنگھم کی جانب سے 3 ہزار پاؤنڈ کی رعایت دی جا رہی ہے۔
ماہرین تعلیم کے مطابق یونیورسٹیوں میں روایتی اسکالرشپ کے بجائے وسیع پیمانے پر فیس ڈسکاؤنٹ دینے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ اس صورتحال کو بعض ماہرین نے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں بڑھتے ہوئے مالی دباؤ سے جوڑا ہے۔
تعلیمی شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ طلبہ کی تعداد کم ہونے کے ساتھ ساتھ فی طالب علم حاصل ہونے والی آمدنی میں کمی یونیورسٹیوں کے مالی معاملات پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے۔ بعض حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جامعات طلبہ کو راغب کرنے کے لیے تعلیمی معیار کے بجائے کم فیس پر زیادہ توجہ دینے لگیں گی۔
بین الاقوامی طلبہ برطانوی جامعات کے لیے آمدنی کا اہم ذریعہ ہیں کیونکہ وہ عام طور پر مقامی طلبہ کے مقابلے میں زیادہ ٹیوشن فیس ادا کرتے ہیں۔ تاہم حالیہ عرصے میں بیرون ملک سے آنے والے طلبہ کی تعداد میں کمی دیکھی گئی ہے۔
ہوم آفس کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2026 کو ختم ہونے والے 12 ماہ کے دوران اسپانسرڈ اسٹڈی ویزا کے لیے درخواستوں کی تعداد 11 فیصد کم ہوکر تقریباً 381,500 رہ گئی۔ طلبہ کے ساتھ برطانیہ آنے والے زیرکفالت افراد کی درخواستوں میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
یہ رجحان جنوری 2024 میں نافذ ہونے والی ان امیگریشن پابندیوں کے بعد مزید نمایاں ہوا، جن کے تحت زیادہ تر غیر ملکی طلبہ کے لیے اپنے خاندان کے افراد کو برطانیہ لانے کی اجازت محدود کردی گئی تھی۔
دوسری جانب برطانیہ کے اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو مجموعی طور پر بھی مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ آفس فار اسٹوڈنٹس کے اعداد و شمار کے مطابق 2024-25 میں پوسٹ گریجویٹ طلبہ سے ٹیوشن فیس کی آمدنی تقریباً 5 ارب پاؤنڈ رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 500 ملین پاؤنڈ کم تھی۔
برطانوی پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی نے بھی یونیورسٹیوں کو درپیش مالی مشکلات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اعلیٰ تعلیم کا شعبہ غیر معمولی مالی دباؤ سے گزر رہا ہے۔ مالی مشکلات کے باعث بعض اداروں میں ملازمتوں میں کمی، کورسز اور شعبہ جات کی بندش، بھرتیوں پر پابندی اور اثاثوں کی فروخت جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق 2024-25 کے دوران برطانیہ میں بین الاقوامی طلبہ کی تعداد تقریباً 685,000 رہی، جبکہ بین الاقوامی ماسٹرز طلبہ کی سالانہ اوسط ٹیوشن فیس تقریباً 15 ہزار سے 45 ہزار پاؤنڈ تک بتائی جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق فیس میں رعایتوں کا بڑھتا ہوا رجحان برطانوی جامعات کی جانب سے بین الاقوامی طلبہ کو برقرار رکھنے اور نئے طلبہ کو راغب کرنے کی بڑھتی ہوئی کوششوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
PNP
Comments are closed.