by Rao Imran Suleman
Rao Nama

کابل: مدرسہ خاتم النبیین خالی کرانے کے طالبان حکم پر احتجاج

کابل: افغانستان کے دارالحکومت کابل کے مغربی علاقے میں مدرسہ خاتم النبیین کو خالی کرانے کے طالبان کے حکم کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد اور مذہبی شخصیات نے شرکت کی۔

ذرائع کے مطابق ہفتے کی شام متعدد افراد دارالامان کے علاقے میں واقع مدرسہ خاتم النبیین کے احاطے میں جمع ہوئے اور طالبان کی وزارت انصاف کی جانب سے ادارے کو خالی کرنے کے حکم پر احتجاج کیا۔

افغانستان انٹرنیشنل کی جانب سے حاصل کی گئی ایک ویڈیو میں مدرسے کے احاطے میں لوگوں کی بڑی تعداد کو موجود دیکھا جا سکتا ہے۔

ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ احتجاج کے دوران طالبان فورسز نے بعض علماء کو حراست میں لینا شروع کیا، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق نہیں ہو سکی۔

رپورٹس کے مطابق طالبان نے 5 ستمبر کو مدرسہ خاتم النبیین کا گھیراؤ کرکے وہاں موجود طلباء اور عملے کو عمارت خالی کرنے کی ہدایت کی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان کی وزارت انصاف سے منسلک اہلکار اور سیکیورٹی فورسز مدرسے کے اطراف میں تعینات ہیں جبکہ کچھ طلباء اب بھی عمارت کے اندر موجود ہیں۔

ذرائع کے مطابق مدرسہ خالی کرانے کی کارروائی طالبان کے وزیر انصاف عبدالحکیم شرعی کے حکم پر کی گئی۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی بعض ویڈیوز میں طالبان کے جھنڈے والی گاڑیوں کو مدرسے کے احاطے میں داخل ہوتے دیکھا گیا ہے۔

طالبان حکومت کی جانب سے تاحال مدرسہ خالی کرانے کے معاملے پر کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔

خاتم النبیین مدرسہ کابل میں شیعہ مذہبی تعلیم کے اہم مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ یہ ادارہ 2007 میں افغان شیعہ عالم اور سیاسی رہنما محمد آصف محسنی نے قائم کیا تھا۔ مدرسے میں مذہبی تعلیم کے علاوہ علمی، تحقیقی اور ثقافتی سرگرمیاں بھی منعقد ہوتی رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق حالیہ کارروائی سے قبل طالبان نے خاتم النبیین یونیورسٹی کا کنٹرول بھی سنبھال لیا تھا اور ادارے کے انتظام کے لیے نئی انتظامی ٹیم مقرر کی گئی تھی۔

مدرسہ خاتم النبیین کو خالی کرانے کا معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کابل میں شیعہ برادری سے منسلک بعض دیگر املاک اور اداروں کے حوالے سے بھی طالبان حکام کے اقدامات پر تنازعات سامنے آتے رہے ہیں۔

طالبان حکام نے بعض سابقہ کارروائیوں میں متعلقہ املاک کی ملکیت اور زمین کے استعمال سے متعلق قانونی معاملات کو کارروائی کی وجہ قرار دیا ہے، تاہم بعض متاثرہ اداروں نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔

مدرسہ خاتم النبیین کے موجودہ معاملے میں طالبان کی جانب سے حتمی مؤقف سامنے آنے کے بعد ہی کارروائی کی وجوہات اور مدرسے میں موجود طلباء و علماء کی صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔

PNP

Comments are closed.