by Rao Imran Suleman
Rao Nama

بغیر گیس اور بجلی کے کھانا پکانے والا انوکھا بیگ

کیمرون کی ایک طالبہ نے ایسا منفرد تھرمل کوکنگ بیگ تیار کیا ہے جس کی مدد سے کھانا پکانے کے لیے مسلسل گیس، بجلی یا لکڑی کی ضرورت نہیں رہتی۔ یہ بیگ کھانے کو ابتدائی حرارت کے بعد کئی گھنٹوں تک آہستہ آہستہ پکانے کا کام کرتا ہے۔

یہ خصوصی بیگ موٹے انسولیشن مٹیریل اور کپڑے سے تیار کیا جاتا ہے اور اس کا طریقہ کار سلو ککر سے ملتا جلتا ہے۔ کھانا پکانے کے لیے پتیلی کو ابتدا میں تقریباً پانچ سے دس منٹ تک چولہے پر رکھا جاتا ہے۔ جب کھانا اچھی طرح ابلنے لگے تو ڈھکن سمیت پتیلی کو چولہے سے اتار کر تھرمل بیگ میں رکھ دیا جاتا ہے اور بیگ کو مضبوطی سے بند کردیا جاتا ہے۔

بیگ میں موجود موصل تہہ پتیلی کی حرارت کو فوری طور پر باہر نکلنے سے روکتی ہے، جس کے باعث اندر موجود کھانا اپنی باقی ماندہ حرارت سے کئی گھنٹوں تک آہستہ آہستہ پکتا رہتا ہے۔ اس طریقے سے دالیں، چاول اور گوشت گلانے کے علاوہ مختلف کھانے بھی تیار کیے جاسکتے ہیں۔

سوپ کی تیاری کے لیے بھی یہی طریقہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ سوپ کو تقریباً دس منٹ تک ابالنے کے بعد پتیلی کو بیگ میں رکھ کر بند کردیا جاتا ہے، جہاں یہ اپنی محفوظ حرارت سے مزید پک کر تقریباً بیس منٹ میں تیار ہوجاتا ہے۔

فزکس کی تعلیم حاصل کرنے والی کیمرون کی اس طالبہ نے یہ بیگ ہاتھ سے تیار کیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا مقصد ایندھن کے استعمال میں کمی لانا اور ایسے گھرانوں کو متبادل فراہم کرنا ہے جہاں گیس یا بجلی کی سہولت محدود ہو۔

اس طریقے سے کھانا پکانے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ روایتی طریقوں کے مقابلے میں ایندھن کی کھپت 70 فیصد تک کم ہوسکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں لکڑی کے استعمال اور درختوں کی کٹائی میں کمی کے ساتھ کھانا پکاتے وقت پیدا ہونے والے دھوئیں سے بھی لوگوں کو تحفظ مل سکتا ہے۔

کیمرون میں اس طرح کے دو ہزار سے زائد بیگ فروخت کیے جاچکے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کم ایندھن میں کھانا پکانے والی اس ٹیکنالوجی میں مقامی سطح پر دلچسپی پیدا ہورہی ہے۔

PNP

Comments are closed.