by Rao Imran Suleman
Rao Nama

لاہور میں باپ اور بھائیوں کے ہاتھوں بیٹی کے قتل کیس میں لرزہ خیز انکشافات

لاہور (پی این پی): لاہور میں 18 سالہ لڑکی ماہم کے قتل کے مقدمے کی ابتدائی تفتیش کے دوران پولیس کے مطابق جنسی تشدد اور گھریلو بدسلوکی سے متعلق سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ماہم کو قتل کیے جانے سے قبل طویل عرصے تک گھر کے اندر جنسی استحصال اور تشدد کا سامنا رہا، جبکہ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی جنسی استحصال کی تصدیق ہوئی ہے۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق ماہم کی والدہ اس کی پیدائش کے چند ماہ بعد ہی انتقال کرگئی تھیں، جس کے بعد اس کی پھوپھی نے اس کی پرورش کی۔ پولیس کے مطابق مبینہ استحصال کا سلسلہ پھوپھی کے گھر سے شروع ہوا۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ بعد ازاں جب ماہم اپنے والد کے پاس واپس آئی تو وہاں بھی اسے مبینہ طور پر جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑا۔ تفتیشی حکام کے مطابق والد کے بعد اس کے دو بھائیوں پر بھی مبینہ طور پر اسی نوعیت کے جرائم میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔

پولیس کے مطابق مقتولہ کو جسمانی تشدد کا بھی نشانہ بنایا جاتا رہا اور اسے مبینہ طور پر گرم لوہے کی راڈ سے جلایا گیا۔

تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے روز بھی ماہم پر مبینہ طور پر تشدد کیا جارہا تھا، اسی دوران اس کی موت واقع ہوگئی۔

پولیس کے مطابق کیس کی مزید تفتیش جاری ہے جبکہ تفصیلی پوسٹ مارٹم رپورٹ اور فرانزک شواہد سامنے آنے کے بعد مقدمے میں مزید دفعات شامل کی جاسکتی ہیں۔

PNP

Comments are closed.