by Rao Imran Suleman
Rao Nama

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ ہوچکا تھا، ہم نے وفاق کو مذاکرات پر آمادہ کیا، بلاول بھٹو زرداری

کراچی (پی این پی) چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ کرلیا گیا تھا، تاہم ہم نے وفاق کو مذاکرات پر آمادہ کیا۔ خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے بجائے سیاسی حل نکالا جائے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاسی استحکام سے متعلق آج اسلام آباد میں بہت کچھ ہورہا ہے۔ صوبائی حکومت دہشتگردی پر دھیان نہیں دیتی تو مجبوراً گورنر راج یا ایمرجنسی کی جانب جانا پڑ سکتا ہے۔دہشتگردی کو قومی ایشو سمجھ کر حکومت اور اپوزیشن کو مل کر کام کرنا چاہیے۔ ہم چاہتے ہیں کہ مل کر دہشتگردی کا مقابلہ کریں، پیپلزپارٹی دہشتگردی کو بہت بڑا مسئلہ سمجھتی ہے۔ افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی میں بھارت کا ہاتھ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔

 چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ ہم نے شہباز اسپیڈ کا نعرہ سنا ہے، کے فور میں شہباز اسپیڈ کی ضرورت ہے۔ سندھ کو جو پانی ملنا چاہیے وہ نہیں دیا جاتا، کراچی کے لوگوں کو بجلی اور گیس کی شکایات ہیں۔سندھ کے لوگوں کو پہلے حق سے محروم رکھا جاتا ہے اور پھر مذاق بھی اڑایا جاتا ہے۔ پیپلزپارٹی پانی کے منصوبوں پر تیزی سے کام کررہی ہے۔کراچی میں تیزی سے کام ہورہا ہے، تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔ پورے ملک میں پانی کی قلت ہے، تاہم سندھ کا پانی کا مسئلہ زیادہ سنگین ہے۔ہمارا 80 فیصد پانی ارسا کے ذریعے آتا ہے۔ سندھ کو پانی کی تقسیم کے طے شدہ فارمولے کے مطابق اس کا حق نہیں مل رہا۔ پانی کی تقسیم کے معاہدے کے مطابق سندھ کو اس کا جائز حصہ ملنا چاہیے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سندھ کی اجازت کے بغیر پانی کے منصوبے صوبے کے لیے مسائل پیدا کر رہے ہیں۔ کراچی کو پانی کی فراہمی میں اضافے کی ضرورت ہے، پانی کا حق دیا جائے۔ سندھ حکومت کراچی سمیت صوبے کے پانی کے مسائل کے حل کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔وفاق نے کراچی کے ساتھ کیے گئے وعدے توڑے، وفاق نے حیدرآباد سکھر موٹروے پر بھی مایوس کیا۔



PNP

Comments are closed.