آئی سی سی نے افغانستان میں طالبان کے چار رہنماؤں کے گرفتاری وارنٹ کھول دیے
انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (آئی سی سی) کے پری ٹرائل چیمبر دوم نے آج 5 اکتوبر 2026 کو افغانستان کی صورتحال میں جاری کیے گئے چار گرفتاری وارنٹ کھولنے کا فیصلہ جاری کردیا۔ یہ وارنٹ 8 جولائی 2025 اور 9 ستمبر 2025 کو طالبان کے امیر ہبت اللہ اخوندزادہ، عبدالحکیم حقانی، حبیب اللہ آغا اور ندا محمد ندیم کے خلاف جاری کیے گئے تھے۔ پہلے دو وارنٹ کی موجودگی 8 جولائی 2025 کو منظرعام پر لائی گئی تھی۔
گرفتاری وارنٹ میں چیمبر نے بین الاقوامی قانون میں موجودہ پیش رفت کے مطابق قرار دیا کہ روم اسٹیٹ میں ’جینڈر‘ کی تعریف محض حیاتیاتی جنس کے تصور تک محدود نہیں بلکہ اس میں جنس کی بنیاد پر افراد سے منسلک سماجی طور پر تشکیل پانے والے کردار، رویے، توقعات اور درجہ بندیاں بھی شامل ہیں۔ چیمبر کے مطابق یہ سماجی تصورات، جنہیں عام طور پر صنفی اصول کہا جاتا ہے، روم اسٹیٹ کے آرٹیکل 7(1)(h) کے تحت صنفی بنیادوں پر ظلم و ستم کے جرائم کا جائزہ لینے کے لیے متعلقہ تناظر کا حصہ ہیں۔
چیمبر نے قرار دیا کہ اس بات پر یقین کرنے کی معقول وجوہ موجود ہیں کہ چاروں مشتبہ افراد طالبان کی صنفی پالیسی سے مطابقت نہ رکھنے والی لڑکیوں، خواتین اور دیگر افراد کے خلاف صنفی بنیادوں پر انسانیت کے خلاف جرم، ظلم و ستم کا حکم دینے، اکسانے یا ترغیب دینے کے مجرمانہ طور پر ذمہ دار ہیں۔ اس کے علاوہ سیاسی بنیادوں پر ان افراد کو بھی نشانہ بنانے کا الزام ہے جنہیں ”لڑکیوں اور خواتین کے اتحادی“ تصور کیا جاتا تھا۔
آئی سی سی کے مطابق یہ جرائم طالبان کے 15 اگست 2021 کو اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان کی سرزمین پر شروع ہوئے اور کم از کم 20 جنوری 2025 تک جاری رہے۔
پری ٹرائل چیمبر دوم کے مطابق طالبان کی جانب سے کام کرنے والے مشتبہ افراد نے ایسی حکومتی پالیسی نافذ کی جس کے نتیجے میں افغانستان کی شہری آبادی کے بنیادی حقوق اور آزادیوں کی سنگین خلاف ورزیاں ہوئیں۔ ان خلاف ورزیوں کا تعلق قتل، قید، تشدد، ریپ اور جبری گمشدگی جیسے اقدامات سے تھا۔
چیمبر کے مطابق طالبان نے مجموعی آبادی پر بعض قواعد اور پابندیاں عائد کیں، تاہم لڑکیوں اور خواتین کو ان کی جنس کی بنیاد پر خصوصی طور پر نشانہ بنایا گیا اور انہیں بنیادی حقوق اور آزادیوں سے محروم کیا گیا۔ فرامین اور احکامات کے ذریعے لڑکیوں اور خواتین کو تعلیم، رازداری اور خاندانی زندگی کے حقوق جبکہ نقل و حرکت، اظہار، فکر، ضمیر اور مذہب کی آزادیوں سے شدید طور پر محروم کیا گیا۔
آئی سی سی کے مطابق دیگر افراد کو بھی اس بنیاد پر نشانہ بنایا گیا کہ ان کے جنسی اظہار اور یا صنفی شناخت کے بعض پہلو طالبان کی صنفی پالیسی سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔
چیمبر نے شواہد کا جائزہ لیتے ہوئے روم اسٹیٹ کے آرٹیکل 7(1)(h) کے مقصد اور مفہوم کو بھی مدنظر رکھا۔ اس کے مطابق یہ شق شہری آبادی کو بنیادی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیوں، بالخصوص کمزور گروہوں کو نشانہ بنانے والے جرائم سے تحفظ فراہم کرنے کے وسیع تر مقصد کی عکاسی کرتی ہے۔
چیمبر نے قرار دیا کہ صنفی بنیادوں پر ظلم و ستم میں صرف براہِ راست تشدد شامل نہیں بلکہ امتیازی سماجی اصول مسلط کرنے سمیت منظم اور ادارہ جاتی نوعیت کے نقصانات بھی شامل ہیں۔
مزید برآں، چیمبر کے مطابق طالبان نے ان افراد کو بھی نشانہ بنایا جو ان پالیسیوں کی مخالفت کرتے ہوئے سمجھے گئے، خواہ ان کی مخالفت غیر فعال انداز میں یا کسی اقدام سے گریز کی صورت میں ہو۔ ان میں وہ افراد بھی شامل تھے جنہیں ”لڑکیوں اور خواتین کے اتحادی“ قرار دیا گیا اور سیاسی مخالفین سمجھا گیا۔
PNP
Comments are closed.