ایرانی وزیر تیل محسن پاک نژاد مستعفی، صدر نے استعفیٰ قبول کر لیا
اوپیک کے رکن ملک ایران کے وزیر تیل محسن پاک نژاد نے ذاتی وجوہات کی بنا پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے جسے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے منظور کر لیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق محسن پاک نژاد اگست 2024 میں اس اہم منصب پر فائز ہوئے تھے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق صدر کے دفتر میں مواصلات کے نائب مہدی طباطبائی نے بتایا کہ مستعفی وزیر نے کافی عرصہ پہلے استعفیٰ پیش کیا تھا جسے صدر نے ان کے اصرار پر قبول کیا۔ وزارت تیل کے امور کو چلانے کے لیے سرکاری ملکیت والی نیشنل ایرانی آئل کمپنی کے چیف ایگزیکٹو حمید بورد کو قائم مقام وزیر تیل مقرر کیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق محسن پاک نژاد کا یہ استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جاری 7 ماہ سے جاری کشیدگی نے ملکی معیشت پر شدید دباؤ بڑھا دیا ہے۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز کی بندش اور امریکی ناکہ بندی کے باعث عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اپنے استعفے سے قبل جاری کردہ بیانات میں مستعفی وزیر نے واضح کیا تھا کہ تیل کی برآمدات سے ملک کو سرمایے کی آمد کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
PNP
Comments are closed.