by Rao Imran Suleman
Rao Nama

’’ہمیں ایف 35 کے قریب بھی نہیں جانے دیا‘‘ بھارتی ایئر چیف کا امریکی کمانڈر کے سامنے شکوہ

بھارتی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ نے امریکی ایف 35 اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں تک محدود رسائی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ جب بھارتی حکام کو ان طیاروں کے قریب جانے کی اجازت نہیں دی جاتی تو پھر ان کی فروخت کی پیش کش کیسے کی جا سکتی ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اے پی سنگھ نے یہ بات راجستھان کے شہر جودھ پور میں کثیر ملکی فضائی مشق ترنگ شکتی 2026 کی اختتامی تقریب کے موقع پر پریس کانفرنس میں کہی۔ اس موقع پر امریکی پیسیفک ایئر فورسز کے کمانڈر جنرل کیون شنائیڈر بھی موجود تھے۔

پریس کانفرنس کے دوران بھارتی فضائیہ کے سربراہ سے سوال کیا گیا کہ کیا امریکا نے بھارت کو پانچویں نسل کے ایف 35 لڑاکا طیارے فروخت کرنے کی باضابطہ پیش کش کی ہے؟ جواب میں اے پی سنگھ نے کہا کہ امریکی حکام بھارتی اہلکاروں کو طیاروں کے قریب بھی نہیں جانے دیتے، اس لیے ان کی فروخت کی بات سمجھ سے بالاتر ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایف 35 طیاروں نے پہلی مرتبہ بھارت میں منعقد ہونے والی ترنگ شکتی 2026 فضائی مشق میں شرکت کی۔ اس مشق میں حصہ لینے کے لیے امریکا کے چھ ایف 35 لائٹننگ ٹو لڑاکا طیارے بھارت پہنچے تھے۔

 

اے پی سنگھ نے بتایا کہ امریکی حکام نے انہیں ایف 35 کے کاک پٹ کا معائنہ کرنے کی اجازت نہیں دی، تاہم بھارتی طیاروں کو امریکی ایف 35 کے ساتھ قریب پرواز کرنے کا موقع دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ممالک اپنی حساس فوجی ٹیکنالوجی کے تحفظ کے لیے اس نوعیت کی پابندیاں عائد کرتے ہیں۔

اس معاملے پر امریکی پیسیفک ایئر فورسز کے کمانڈر جنرل کیون شنائیڈر نے وضاحت کی کہ ایف 35 سے متعلق معلومات فراہم کرنے کا فیصلہ ان کے انفرادی اختیار میں نہیں۔ ان کے مطابق معلومات کی فراہمی کا تعین متعلقہ پروگرام کے سیکیورٹی ضوابط اور درجہ بندی کے اصولوں کے تحت کیا جاتا ہے، جن میں یہ طے ہوتا ہے کہ کون سی معلومات کس کو اور کن حالات میں دی جا سکتی ہیں۔

دوسری جانب بھارتی فضائیہ کے سربراہ نے تصدیق کی کہ روس نے بھارت کو اپنے پانچویں نسل کے ایس یو 57 لڑاکا طیارے فراہم کرنے کی پیش کش بھی کی ہے، تاہم اس بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔



PNP

Comments are closed.