بھارت میں ووٹر فہرستوں کا تنازع شدت اختیار کر گیا،دہلی میں احتجاج اور گرفتاریاں
بھارت میں ووٹر فہرستوں سے کروڑوں نام خارج کیے جانے کے معاملے پر سیاسی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے احتجاج کے پیش نظر نئی دہلی میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی، جبکہ احتجاج میں شرکت کے لیے پہنچنے والے پارٹی رہنماؤں کو حراست میں لے لیا گیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھجیت دِپکے، سورَو داس اور آشوتوش رانکا کو 10 اکتوبر کو دہلی ایئرپورٹ پر حراست میں لیا گیا۔ یہ رہنما ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کی اپیل کر رہے تھے۔
بھارت میں انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کے دوران تقریباً 13 کروڑ نام مسودہ فہرستوں سے خارج ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں اور احتجاجی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ اس عمل میں اہل ووٹرز کے نام بھی خارج ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ انتخابی حکام کی جانب سے فہرستوں کی درستگی اور رہ جانے والے ووٹرز کے اندراج کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
دہلی میں احتجاج روکنے کے لیے پولیس نے اہم مقامات پر سیکیورٹی بڑھائی اور آمدورفت پر پابندیاں عائد کیں۔ رپورٹس کے مطابق احتجاج کے دوران بڑی تعداد میں افراد کو حراست میں لیا گیا، تاہم ان گرفتاریوں اور پابندیوں کی تفصیلات مختلف ذرائع میں الگ الگ بیان کی گئی ہیں۔
اپوزیشن رہنماؤں نے انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے عمل پر سوالات اٹھاتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب احتجاجی تحریک سے وابستہ رہنماؤں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے مطالبات کے حق میں مظاہرے جاری رکھیں گے۔
PNP
Comments are closed.