بھارتی ریاست منی پورمیں تشددکے تازہ واقعات ۔مزید9 افرادہلاک
مودی سرکارکی ناکام اورناقص پالیسیوں کے باعث منی پورمیں حالات روزبروزمزید سنگین شکل اختیارکرتے جا رہے ہیں۔بھارتی جریدے انڈیا ٹوڈے کے مطابق منی پور میں کوکی اور ناگا برادریوں کے درمیان تازہ جھڑپوں میں ہلاکتوں کی تعداد 9 ہو گئی ہے۔
اخبارنے بتایا ہےکہ نامعلوم افراد کی فائرنگ سے5 بچوں کی ماں اور 22 سالہ خاتون کی ہلاکت کے بعد تشدد کا نیا سلسلہ شروع ہوا ۔ منی پورمیں مسلح گروہوں کے درمیان حالیہ جھڑپوں کے دوران 10 گھروں کو آگ لگا دی گئی۔
پہاڑی اضلاع کامجونگ، یوکھرول اور کانگپوکپی میں کوکی اور ناگا برادریوں کے مابین تازہ پرتشدد جھڑپوں میں نو افراد ہلاک ہو ئے، جس کے بعد علاقے میں صورتحال کشید ہ ہے۔ وزیر اعلیٰ یمنام کھیم چند سنگھ نے امن اور تحمل کی اپیل کی ہے، سیکورٹی فورسز نے بدترین متاثرہ علاقوں کا رخ کر لیا ہے۔
وزیراعلیٰ منی پور نے شہریوں کی ہلاکت کی شدید مذمت کی اور حکام کو ہدایت کی کہ وہ تشدد پر قابو پانے، امن و امان بحال کرنے اور رہائشیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ انہوں نے تمام برادریوں پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے مذاکرات اور ہم آہنگی کو ترجیح دیں۔
حکام کے مطابق کامجونگ اور کانگپوکپی کے اضلاع میں اضافی سیکورٹی فورسز تعینات کر دی گئی ہیں۔تشدد کا آغاز جمعہ کی رات کامجونگ ضلع کے گاؤں چھاساد میں ایک خاتون کے گولی مار کر قتل کیے جانے کے بعد ہوا، جہاں کوکی اور ناگا برادریاں قریبی علاقوں میں ساتھ ساتھ رہتی ہیں۔ اس ہلاکت کے بعد مسلح گروہوں کے مابین فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا، جس کے بعد مزید فائرنگ اور آتش زنی کے واقعات پیش آئے۔
کامجونگ، کانگپوکپی اور یوکھرول کے اضلاع میں الگ الگ حملوں کے دوران متعدد افراد ہلاک ہوئے۔ رپورٹوں میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جھڑپوں کے دوران گھروں کو آگ لگا دی گئی، مزید تشدد کو روکنے کے لیے کامجونگ کے کچھ حصوں میں امتناعی احکامات (دفعہ 144) نافذ کر دیے گئے ہیں۔
فروری 2026 سے اب تک دونوں گروپوں کے مابین ہونے والی جھڑپوں میں 40 سے زائد افراد مبینہ طور پر ہلاک ہو چکے ہیں۔
PNP
Comments are closed.