by Rao Imran Suleman
Rao Nama

میر رضا جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ سندھ حکومت کے حوالے

میر علی رضا—فائل فوٹو

میر رضا جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ سندھ حکومت کے حوالے کر دی گئی۔

رجسٹرار کمیشن نے رپورٹ ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ جاوید ابڑو کے سپرد کر دی۔

ذرائع کے مطابق جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ 7 سربمہر لفافوں پر مشتمل ہے جس میں گواہان کے ریکارڈ شدہ بیانات بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ میر رضا کی موت کے کیس کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن نے 7 اکتوبر کو کارروائی مکمل کر لی تھی۔

جوڈیشل کمیشن نے جائے وقوع کے دورے سمیت مجموعی طور پر 15 اجلاس کیے تھے۔

جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا نوٹیفکیشن 24 اگست کو جاری ہوا تھا جبکہ کمیشن نے 27 اگست کو کام کا آغاز کیا تھا۔

محکمۂ داخلہ سندھ نے 1 ماہ میں کارروائی مکمل کرنے کا کہا تھا۔

کیس کا پس منظر

واضح رہے کہ کراچی کا نوجوان میر رضا علی خان 28 جولائی کو پاکستان ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) سے لاپتہ ہوا تھا، وہ صبح 4 بج کر 9 منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوا تھا، جس کی لاش 2 روز بعد گلستانِ جوہر سے ملی تھی۔

پولیس حکام کے مطابق میر رضا کی لاش بہت بری حالت میں ملی تھی، اس کے سینے میں گولی لگی تھی، لاش ملنے سے 1 روز قبل اس کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیے گئے تھے۔

مقتول کے والد کا کہنا تھا کہ میر رضا کا 30 اگست کو گلشنِ اقبال کی بیت المکرم مسجد میں نکاح تھا اور وہ اپنی نئی شروع ہونے والی زندگی کے حوالے سے بہت خوش تھا۔



PNP

Comments are closed.